کریڈٹ کارڈ پر پٹرول خریدی پر رعایت برخاست ، ایس بی آئی کے حالات خراب ہونے کا اندازہ
حیدرآباد۔25ستمبر(سیا ست نیوز) ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے لازمی ہے کہ ملک میں موجود بینکوں کے حالات کو بہتر بنایا جائے اور بینکوں کے استحکام کے ذریعہ معیشت کو مستحکم کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے بعد ڈیجیٹل لین دین کے فروغ کیلئے کریڈٹ کارڈ اور دیگر الکٹرانک ذرائع کے ساتھ پٹرول کی خریدی پر رعایت کے اعلان کے بعد پٹرول کے لئے ڈیجیٹل لین دین میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن آج اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنے کریڈٹ کارڈ صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعہ مطلع کیا ہے کہ اب ہندستان میں پٹرول کیلئے کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر کوئی رعایت حاصل نہیں ہوگی جو گذشتہ ڈھائی سال سے دی جا رہی تھی ۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اس ایس ایم ایس سے بینک کی مجموعی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معیشت کس دہانے پر ہے اور کیوں اس طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات میں بینکوں کے انضمام کو کافی اہمیت کا حامل تصور کیا جا رہاہے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے کئے جانے والے اس اقدام کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے احکام موصول ہونے کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کیلئے کئے جانے والے اقدامات میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگیوں پر رعایت کو سب سے اہم قرار دیا جا رہا تھا لیکن اب جس طرح کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی پر رعایت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہا جا رہاہے مستقبل قریب میں ڈیبیٹ کارڈ اور دیگر الکٹرانک طریقہ ادائیگی پر حاصل ہونے والی رعایت بھی ختم کی جا سکتی ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات سے نہ صرف بینک بلکہ ریٹیل آئیل کمپنیز پر بھی رعایت کا بوجھ عائد ہو رہا تھا اسی لئے بینکوں کی جانب سے کریڈٹ کارڈ پر پٹرول کی خریدی پر فراہم کی جانے والی رعایت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے بینک اور خانگی کمپنیوں پر عائد ہونے والے بوجھ کو کم کیا جاسکے ۔بینکو ںکو مستحکم کرنے کیلئے بینک منتظمین چھوٹے چھوٹے بوجھ کو کم کرنے کے علاوہ ان کمپنیوں کو بھی راحت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جوکہ بینکوں کی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ کریڈٹ کارڈ سے پٹرول کی خریدی پر فراہم کی جانے والی رعایت کو ختم کردیئے جانے سے بینکوں اور ریٹیل آئیل کمپنیوں کو سالانہ 2500 کروڑ کا فائدہ ہوگا۔