سینکڑوں سڑکیں بند، عوام کو مشکلات، سیاح بھی سخت موسم سے پریشان
نئی دہلی ۔25؍جنوری ( ایجنسیز)ملک کی پہاڑی ریاستوں میں جم کر برف باری ہو رہی ہے۔ برف باری کا لطف لینے بڑی تعداد میں ہر جگہ سیاح موجود ہیں۔ کئی جگہوں پر ہوٹل بھرے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طویل جام نے لوگوں کا برا حال کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق برف باری کا سلسہ مزید جاری رہے گا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک ہوئی برف باری اور بارش کی وجہ سے شمالی ہندوستان میں سردی اچانک بڑھ گئی ہے۔ ہماچل پردیش میں برف باری کی وجہ سے 2 قومی شاہراہوں سمیت 680 سے زائد سڑکیں بند ہیں۔ تمام شاہراہوں کو مکمل طور سے بحال کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔منالی میں برف باری کی وجہ سے سڑکیں برف سے ڈھک گئی ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہو گیا ہے۔ سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے بچیں اور مقامی انتظامیہ کے ذریعہ جاری ہدایات پر عمل کریں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو 8 گھنٹہ سے بھی زیادہ تک لوگ جام میں ہی پھنسے رہے۔ شملہ سے 10 کلومیٹر ڈھلی سے آگے ٹریفک روک دیا گیا تھا کیونکہ ہندوستان-تبت روڈ کا ایک بڑا حصہ برف کی موٹی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ دوسری جانب کشمیر میں بھی برف باری کے بعد قومی شاہراہ کو بند کر دیا گیا ہے۔ جموں-سری نگر قومی شاہراہ (این ایچ 44) مسلسل دوسرے روز بھی تمام گاڑیوں کے لیے بند رہا، کیونکہ مرمت کا کام جاری ہے۔ سینکڑوں گاڑیاں اودھم پور کے جکھانی میں پھنسی ہوئی ہیں، ٹریفک پولیس نے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ہر طرح کی آمد و رفت روک دی ہے۔ گلمرگ اور بانی جیسی جگہوں پر برف کی موٹی چادر جمع ہو چکی ہے۔ یہاں بھی بڑی تعداد میں سیاح پہنچے ہوئے ہیں۔ گلمرگ میں درجہ حرارت منفی 12 اور سری نگر میں منفی 1.4 ڈگری درج کیا گیا۔ کئی سیاح اس برف باری کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ فوج اور انتظامیہ نے پھنسے ہوئے مسافروں کو بحفاظت نکال کر طعام و قیام کا انتظام کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں باہر نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔