ملک کی 12 ریاستوں میں آکسیجن کی قلت سے کوئی موت نہیں ہوئی

   

مرکزی حکومت کو ریاستوں اور مرکز ی زیرانتظام علاقوں سے جمع کئے گئے ڈیٹا میں دعوے

ئی دہلی : اس وقت بارہ ریاستوں سے حاصل کئے گئے ڈیٹا سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کووڈ کی دوسری لہر کے دوران میڈیکل آکسیجن کی قلت کی وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی۔ وزارت صحت کے ذرائع کی جانب سے چہارشنبہ کو یہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ صرف ایک ہفتہ قبل ہی مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں اور مرکزی حکومت کے زیرانتظام علاقوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس موضوع پر اپنے ڈیٹا جمع کروائیں۔ اب تک 13 ریاستوں نے اس موضوع پر اپنے ڈیٹا جمع کروائے ہیں جبکہ صرف پنجاب ہی ایسی ریاست ہے جس نے ڈیٹا میں چار مشتبہ اموات کا تذکرہ کیا ہے جبکہ مابقی 12 ریاستوں نے اپنے ڈیٹا میں اموات کی شرح 0% بتائی ہے۔ اُن میں اڈیشہ، اروناچل پردیش، اتراکھنڈ، ناگالینڈ، آسام، سکم، تریپورہ، جھارکھنڈ، ہماچل پردیش اور آندھراپردیش شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مرکز کے زیرانتظام لداخ اور جموں و کشمیر بھی شامل ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ ہفتہ ہی یہ ہدایت جاری کی تھی کہ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں سے حاصل کئے گئے ڈیٹا کو پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پیش کیا جائے گا جہاں سیشن کی کارروائی میں بار بار رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں جس کے لئے متعدد وجوہات بتائی گئی ہیں جن میں ریاستوں کی جانب سے آکسیجن کی قلت سے کوئی موت نہ ہونے کے دعوے بھی شامل ہیں۔ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 13 اگسٹ کو اختتام پذیر ہورہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا دلچسپ ہوگا کہ گزشتہ ماہ جونیر وزیر صحت بھارتی پروین پوار نے راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ کوویڈ ۔ 19 کی دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی قلت کی وجہ سے کسی بھی موت کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اُن کے اس بیان پر کافی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جبکہ لوک سبھا میں نئے وزیر صحت منسکھ منڈاویا نے مرکزی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ صحت کا معاملہ چونکہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے لہذا ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو اس کی تفصیلات پیش کرنا چاہئے۔ بہرحال دونوں ہی طرح سے ان بیانات نے احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیا جہاں اپوزیشن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے مختلف ویڈیوز اور مختلف ہاسپٹلس کی جانب سے جاری کئے گئے بیانات کا حوالہ دیا جہاں آکسیجن کی قلت کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کی مدد کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس موقع پر دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کہاکہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ آکسیجن کی قلت کی وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی۔ اگر ایسا ہوتا تو ہاسپٹلس کی جانب سے ہائی کورٹ میں آکسیجن کی قلت سے متعلق اپیلیں کیوں کی جارہی تھیں۔ مئی کے مہینے میں گوا کے ایک سرکاری ہاسپٹل میں 80 افراد کی موت درج کی گئی تھی۔