ملک کی 6 ریاستوں میں ضمنی انتخابات بی جے پی، ایس پی اور عآپ کی ساکھ داؤ پر

   

نئی دہلی: ملک کی چھ ریاستوں میں تین لوک سبھا اور سات اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے تحت ووٹنگ ہوئی ہے۔ ملک کی چھ ریاستوں میں ہونے والے اس ضمنی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی، سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اتر پردیش کی دو سیٹوں اعظم گڑھ اور رامپور لوک سبھا سیٹوں پر آج بالترتیب 48.58 فیصد اور 39 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ، جب کہ پنجاب کی ایک لوک سبھا سیٹ سنگرور 37 فیصد رائے دہی ہوئی۔ اتر پردیش کی اعظم گڑھ سیٹ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، جب کہ رام پور پارلیمانی سیٹ پر سماج وادی پارٹی کے مضبوط قائد اعظم خان کے استعفیٰ کی وجہ سے ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ اکھلیش یادو اور اعظم خان اسی سال ہوئے اسمبلی انتخابات میں ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں، انہوں نے ایم ایل اے کے طور پر رہنے کے لیے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یہ دونوں سیٹیں سماج وادی پارٹی کا گڑھ سمجھی جاتی ہیں، اس لیے ایس پی اور اکھلیش یادو کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، جب کہ بی جے پی ان سیٹوں کو جیت کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ اب اتر پردیش میں ایس پی کا گراف نیچے جا رہا ہے۔وہیں سنگرور لوک سبھا سیٹ بھگونت مان کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی جس کے لئے آج ضمنی انتخاب ہو ا۔ اسی سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ریکارڈ اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے پنجاب میں حکومت بنانے والی عام آدمی پارٹی کے لئے یہ سیٹ جیتنا ضروری ہو گیا ہے، کیونکہ ان کے وزیر اعلیٰ کی پرانی سیٹ ہونے کی وجہ سے ان کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ملک کی مختلف ریاستوں میں اسمبلی سیٹوں کے ضمنی انتخابات کی بات کریں تو جمعرات کو دہلی، جھارکھنڈ، آندھرا پردیش اور تریپورہ کی سات اسمبلی سیٹوں پر بھی ضمنی انتخابات کے تحت رائے دہی ہوئی۔ اعظم خان نے ووٹنگ کے دوران پولیس کی زیادتیوں کا الزام عائد کیا۔