اوڈیشہ کے بعض اضلاع میں سیلاب کی وارننگ، آمد و رفت پر زبردست اثر
نئی دہلی : ملک کی مختلف ریاستوں میں کئی دنوں سے الگ الگ مقامات پر زوردار بارش اور لینڈ سلائڈ کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے زبردست جانی و مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ موسمیات نے ملک کی 24 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اگلے ایک ہفتہ تک طوفانی بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی لوگوں سے احتیاط برتنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب۔مشرق اترپردیش اور قریبی علاقوں راجستھان اور جنوبی جھارکھنڈ و پڑوسی علاقوں میں کم دباؤ کے علاقہ کے ٹھیک اوپر طوفانی ہواؤں کامرکز بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔جن ریاستوں میں بارش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ان میں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، راجستھان، جموں و کشمیر، اترپردیش، پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ، دہلی اور مدھیہ پردیش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھتیس گڑھ، گوا، مہاراشٹرا، تلنگانہ، کیرالا، کرناٹک، ساحلی آندھرا پردیش اور شمال مشرق کی سبھی 7 ریاستوں میں بھی زوردار بارش ہوسکتی ہے۔اوڈیشہ میں ہیراکنڈ پشتہ سے پانی چھوڑے جانے کے بعد مہاندی کی آبی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاست کے خصوصی ریلیف کمشنر ستیہ ورت ساہو نے 10 ضلعوں کے ڈی ایم کو سیلاب کے لیے الرٹ کردیا ہے۔ ان میں سمبل پور، سونپور، انگْل، پوری، کٹک، جگت سنگھ پور اور کیندر پاڑا شامل ہیں۔ ہیرا کنڈ پشتہ سے 5.78 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے۔ایک واقعہ میں منڈی۔منالی نیشنل ہائی وے پر ہنوگی پْل کے پاس بس کے انتظار میں کھڑے ایک نوجوان کی پہاڑی سے گرے پتھر کی زد میں آجانے سے موت ہوگئی ہے۔ وہیں لینڈ سلائڈ اور بارش کی وجہ سے آمد و رفت پر بھی زبردست اثر پڑا ہے۔ شملہ۔کنور قومی شاہراہ 20 گھنٹے اور چنڈی گڑھ۔منڈی قومی شاہراہ 13 گھنٹے بند رہا اور پوری رات لوگ گاڑیوں میں پھنسے رہے۔