کانگریس کے خلاف بی جے پی کی سا زش، تلگو ریاستوں کے ضلعی صدور کے ٹریننگ پروگرام سے خطاب
حیدرآباد ۔23 ۔ فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ راہول گاندھی کے وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہونے کی صورتحال ملک کے تمام مسائل کی یکسوئی ممکن ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے آج وقار آباد میں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے ضلع کانگریس صدور کے ٹریننگ کیمپ سے خطاب کیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور دیگر قائدین اس موقع پر موجود تھے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کانگریس پارٹی اور قائدین کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں تاکہ اپوزیشن کی آواز کو دبایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہے جب راہول گاندھی ملک کے وزیراعظم ہوں گے ۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کے ضلع کانگریس صدور پر زور دیا کہ وہ دونوں ریاستوں میں لوک سبھا کی زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کی جدوجہد کرتے ہوئے راہول گاندھی کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کریں۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی نے سماجی انصاف کیلئے ملک بھر میں جدوجہد کا آغاز کیا ہے ۔ کمزور طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے کے مسئلہ پر راہول گاندھی نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں دلت طلبہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی تھی۔ روہت ویمولا نے یونیورسٹی میں خودکشی کرلی تھی۔ ملک میں چھوت چھات اور سماجی ناانصافی کا خاتمہ راہول گاندھی کی اولین ترجیح ہے۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں روہت ویمولا قانون کو مت عارف کرنے کی مساعی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل کی تمام طبقات میں یکساں طور پر تقسیم کانگریس کا ایجنڈہ ہے۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ تلنگانہ حکومت نے طبقاتی سروے کا کامیاب انعقاد عمل میں لایا۔ 50 دنوں میں سروے کی تکمیل کرتے ہوئے اسمبلی میں رپورٹ پیش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ملک میں کانگریس پارٹی کے صفایہ کی سازش کر رہی ہے۔ کانگریس قائدین کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے ہراساں کیا جارہا ہے۔ کل ہند کانگریس نے مودی حکومت کی ناکامیوں کے خلاف عوامی جدوجہد کو تیز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی سے بی جے پی کوئی تعلق نہیں۔ ملک کی ترقی میں پنڈت نہرو اور کانگریس وزرائے اعظم نے اہم رول ادا کیا۔ بھٹی وکرمارکا نے دونوں ریاستوں میں کانگریس کو تنظیمی طور پر مستحکم کرنے کارکنوں کو متحرک ہونے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر اے آئی سی سی سکریٹریز ومشی چند ریڈی ، وشواناتھن اور ساونت سچن راؤ موجود تھے ۔1