ملک کے حالات میں ستمبر تک سدھار کے آثار موہوم

   

Ferty9 Clinic

کورونا وباء پر کنٹرول اور لاک ڈاؤن کے خاتمہ پر الجھن ، کیپٹن امریندر سنگھ

حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) ملک کے موجودہ حالات میں سدھار کے امکانات ستمبر تک موہوم نظر آرہے ہیں اور اب یہ بات سرکردہ حلقو ںمیں بھی کہی جانے لگی ہے۔ ریاست پنجاب کے چیف منسٹر امریندر سنگھ نے کہہ دیا کہ ہے کہ صورتحال سے ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ ستمبر تک حالات معمول پر آسکتے ہیں اور کورونا وائرس کی وباء پر قابو پائے جانے کا کوئی امکان نظرنہیں آرہا ہے اور نہ ہی عوام کو ستمبر تک لاک ڈاؤن رکھا جاسکتا ہے۔ مسٹر امریندر سنگھ کے اس اظہار خیال کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں کوئی نرمی کے حالات یا تبدیلی نمایاں نہیں ہوگی بلکہ حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ ہندستان میں پہلے مرحلہ اور دوسرے مرحلہ کے لاک ڈاؤن کی مدت کو شمار کیا جائے تو اب تک 40یوم کے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جائے گا اور صورتحال کو بہتر بنانے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ چیف منسٹر پنجاب نے کہہ دیا ہے کہ ستمبر تک کورونا وائرس پر قابو پایا جانا ممکن نظر نہیں آرہا ہے لیکن ساتھ ہی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن کو جاری رکھنا بھی ممکن نہیں ہے لیکن پنجاب میں حکومت کی جانب سے سختیوں کے ساتھ معمول کی زندگی کو بحال کرنے کی کوششیں کی جائیں گی اور یہ کوششیں کیسے ممکن ہو گی اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ امریندر سنگھ نے جو بات کہی ہے یہی بات کئی عالمی ادارو ںکی جانب سے بھی کہی جا رہی ہے لیکن اتنی طویل مدت تک لاک ڈاؤن بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ہندستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والوں کی بڑی تعداد ہے لیکن اگر حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں رعایت کے ساتھ شہریوں پر سخت احکامات نافذ کرتے ہوئے انہیں اس کا پابند بنانے کی کوشش کی جا تی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ ان احکامات کی پابندی کے ساتھ گھروں سے نکل سکتے ہیں تو ایسے میں حالات مزید ابتر ہونے کے خدشات بھی ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بھی عالمی شہرت یافتہ ادارہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا تھا جس میں لاک ڈاؤن کی مدت میں طویل توسیع کی سفارش کی گئی ہے ۔ ہندستان میں لاک ڈاؤن کو ختم کرتے ہی معمول کی سرگرمیاں شروع کردی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے حکومت کی جانب سے عوام کی سہولت اور ان کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جا رہاہے۔