نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے منی پور، جے پور ممبئی ٹرین میں خونی واردات اور حالیہ دنوں ریاست ہریانہ کے میوات، گڑگاؤں اور دیگر جگہوں پر ہوئے مذہبی تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے ہفتہ کو میڈیا سے خطاب میں کہا کہ منی پور میں تقریباً تین ماہ سے جاری تشدد، مختلف نسلی گروہوں کے درمیان غیر حل شدہ تاریخی تناؤ کا نتیجہ، انسانیت کے ایک نئے انحطاط کا اشارہ ہے اور ریاستی اور مرکزی دونوں سطحوں پر حکمرانی کی انتہائی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بروقت اور فعال کارروائی سے تشدد کو بڑھنے سے روکا جا سکتا تھا اور بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں اور عبادت گاہوں پر ہونے والے افسوسناک حملے کو روکا جا سکتا تھا،جماعت اسلامی ہند میڈیا اہلکاروں کو خطاب میں مزید کہا کہ مذہبی جلوسوں کا استعمال تشدد کو بھڑکانے اور اسے جاری رکھنے کے لیے انتہائی قابل مذمت ہے۔ گروگرام کے سیکٹر 57 میں تشدد کے دوران مسجد کو آگ لگا دی گئی اور مسجد کے امام مولانا سعد کی موت ہو گئی۔ جماعت اس معاملے کی فوری اعلیٰ سطحی انکوائری اور پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے جو پیشگی انٹیلی جنس اطلاعات کے باوجود شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہے۔ جماعت تشدد کے اصل ذمہ داروں کو پکڑنے کے بجائے مسلم نوجوانوں کی جانبدارانہ گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتی ہے۔