نئی دہلی، 6فروری(سیاست ڈاٹ کام)وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے کچھ بڑے لیڈروں کی گرفتاری کو جائز ٹھہراتے ہوئے کہاکہ جموں۔کشمیر سمیت ملک کے کسی بھی حصہ کے حالات بگڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر لوک سبھا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہاکہ کشمیر میں جن کو صرف زمین نظر آتی ہے ، وہ انکی بیمار ذہنیت کی علامت ہے ۔ کشمیر ہندستان کا تاج ہے مگر کشمیر کی پہچان بم، بندوق اور علاحدگی پسندی کی بنا دی گئی تھی۔ 19جنوری 1990(جس دن لاکھوں ہندووں کو وادی کشمیر سے بھاگنا پڑا تھا) کی کالی رات کو کچھ لوگوں نے کشمیر کی پہچان کو دفنا دیا تھا۔ کشمیر کی پہچان صوفی روایت اور مذہبی ہم آہنگی کی ہے ۔انہوں نے پپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ کے ماضی میں دیئے گئے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی ذہنیت قابل قبول نہیں ہے ۔ ان کے بیانات سے صاف ہے کہ انہیں کشمیر کے عوام پر اعتماد نہیں تھا۔ انہوں کہاکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کشمیر کے عوام پر بھروسہ نہیں ہے ۔ ہم نے کشمیر کے عوام پر بھروسہ کیا اور آرٹیکل 370ہٹایا۔ اب جموں وکشمیر میں تیزی سے ترقی ہورہی ہے ۔وزیراعظم مودی نے صاف الفاظ میں کہا کہ ملک کے کسی بھی حصہ کے حالات بگڑنے نہیں دیئے جائیں گے ، خواہ وہ جموں وکشمیر ہو یا شمال مشرق کی ریاستیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کی حکومت جموں کشمیر کی ترقی کے لئے وقف ہے ۔لداخ کے بارے میں مسٹر مودی نے کہا کہ جموں وکشمیر سے الگ کر کے مرکز کے زیرانتظام علاقہ بنائے گئے لداخ کو کاربن سے مبرا بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکم نے آرگنک ریاست کے طورپر اپنی شناخت بنائی ہے ۔ لداخ کی سرحد سے ملحق پڑوسی ملک کے بھوٹان کی شناخت دنیا میں کاربن سے مبرا ریاست کے طورپر بنی ہے ۔ ان کی خواہش ہے کہ لداخ بھی کاربن سے مبرا بنے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ جب وہ لداخ جائیں گے تو اس سمت میں روڈمیپ بنانے کا کام کریں گے ۔
