ملک کے کسی بھی علاقے کے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور نہیں:حکومت

   

نئی دہلی، 02 فروری (یواین آئی) حکومت نے پیر کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ ملک کے کسی بھی علاقے میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور نہیں ہیں۔ راجیہ سبھا میں سوال و جواب کے دوران جل شکتی کے وزیرِمملکت راج بھوشن چودھری نے ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ مرکزی زمینی پانی بورڈ اور ریاستی حکومتوں کی رپورٹ کے مطابق ملک کا زمینی پانی بڑی حد تک پینے کے قابل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج 16 کروڑ گھروں میں نل کے ذریعے پانی پہنچ رہا ہے اور “ملک کے کسی بھی علاقے کا شخص آلودہ پانی پینے پر مجبور نہیں ہے ۔” حال ہی میں مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی پینے سے کئی بچوں کی موت کے بارے میں پوچھے گئے ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں جل شکتی کے وزیر سی۔ آر۔ پاٹل نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ “ہر گھر جل” اسکیم سے 8.4 لاکھ کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے اور ہر سال 60 ہزار بچوں کی جان بچائی گئی ہے جو آلودہ پانی کی وجہ سے مر جاتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی ریاستی حکومتوں کا کام ہے ، اس کے باوجود مرکزی حکومت “جل جیون مشن” کے تحت انہیں اسے نافذ کرنے میں مدد کر رہی ہے ۔