ٹنڈر س جاری کرنے کا عمل شروع، مودی حکومت غریبوں کاآخری سہار ابھی چھین رہی : راہل گاندھی کی شدید تنقید
نئی دہلی : اپنی پہلی مدت کار سے ہی مودی حکومت خانگیانے کی راہ پر گامزن ہے۔ کئی بڑی سرکاری کمپنیوں کی نجکاری ہو چکی ہے اور کئی قطار میں ہیں۔ یہاں تک کہ مودی حکومت ملک کی لائف لائن کہے جانے والے ریلوے میں بھی نجکاری کی طرف قدم بڑھا چکی ہے۔ حکومت نے اس کے لیے 109 جوڑی ٹرینوں کے لیے پروپوزل مانگا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مودی حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جمعرات کو راہل گاندھی نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ ریل غریبوں کی واحد لائف لائن ہے اور حکومت ان سے یہ بھی چھین رہی ہے۔ جو چھیننا ہے چھینئے، لیکن یاد رہے، ملک کے عوام اس کا سخت جواب دیں گے۔”اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے جس کا عنوان ہے’’ خانگیانے کی سمت میں ریلوے کا بڑا قدم ،109 پرائیویٹ ٹرینوں کیلئے مانگا پرائیویٹ پروپوزل‘‘ واضح رہے کہ حکومت نے109 روٹس پر ٹرینوں کو چلانے کی پوری ذمہ داری نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لئے ٹینڈر جاری کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ 35 سال کے اس پروجیکٹ سے حکومت کو 30 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کی امید ہے۔ اس میں، ٹرینوں کی خریداری، اس کیلئے رقم اکٹھا کرنے، ٹرینوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری پرائیوٹ کمپنی کے پاس ہوگی، جبکہ ڈرائیور اور محافظ ریلوے کے ہوں گے۔ کمپنی ریلوے کو اپنی آمدنی میں حصہ دے گی۔ نیز ٹریک کے استعمال کیلئے یہ ریلوے کو مال بردار اور کھپت کی بنیاد پر بجلی کی فیس ادا کرے گی۔ اہلیت کی درخواست کے ساتھ ساتھ ٹینڈر کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پرائیوٹ کمپنی کو12کلسٹرزمیں109روٹس پرچلنے والی218ٹرینیں ملیں گی، جن میں’’اپ‘‘ اور ’’ڈاون‘‘ دونوں شامل ہیں۔ اس کے لئے انہیں کم از کم16 کوچ والی151جدید ٹرینیں خریدنی ہوں گی۔ اس میں، میک ان انڈیا بھی ترجیحی شرط ہوگی۔ اس اقدام پر پرائیوٹ کمپنیوں کے ذریعہ 30ہزارکروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن (آئی آر سی ٹی سی) کے ذریعہ وندے بھارت ٹرینوں کے کامیاب تجربے کے بعد، حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹرینوں کے کاموں کو مکمل طور پر نجی ہاتھوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی کمپنیوں کو35سال تک ٹرینیں چلانے کا حق دیا جائے گا۔ ان ٹرینوں کی رفتار کی زیادہ سے زیادہ حد 160کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ روانگی سے منزل تک کا سفر کا وقت بھی اس وقت ہندوستانی ریلوے کے ذریعہ چلائی جانے والی تیز ترین ٹرین کے برابر یا زیادہ ہونا مشروط ہے۔ ریلوے کو امید ہے کہ نجی کمپنیوں کی آمد سے سفر کا وقت کم ہوگا۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس قدم کا مقصد جدید ترین کوچ اور انجن لانا، روزگار میں اضافہ، حفاظت میں بہتری اور مسافروں کو عالمی معیار کی سہولت فراہم کرنا اور سفر کے وقت کو کم کرنا ہے۔