ممبئی ، 27 فروری (یو این آئی) مہاراشٹر حکومت نے بامبے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ڈومیسٹک ٹرمینل کے قریب واقع عارضی شیڈ میں آٹو رکشا، ٹیکسی اور اولا۔اوبر ڈرائیوروں کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ علاقہ ہائی سکیورٹی زون ہے اور اس سے سکیورٹی انتظامات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، چاہے رمضان المبارک ہی کیوں نہ جاری ہو۔ تاہم جسٹس برجیس کولاباوالا اور جسٹس فردوش پونی والا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ریاستی حکومت اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ قریبی علاقے میں کوئی متبادل مقام فراہم کیا جا سکتا ہے تاکہ ڈرائیور اور مسافر کم از کم رمضان کے دوران نماز ادا کر سکیں۔ سماعت کے دوران ایم ایم آر ڈی اے کے وکیل اکشے شندے نے عدالت کو بتایا کہ متنازعہ مقام گیٹ نمبر 9 کے قریب ہے جو وی آئی پی آمد و رفت کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اس لیے مقامی پولیس نے وہاں اجتماع پر سکیورٹی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ سرکاری وکیل جیوتی چوہان نے عدالت کو بتایا کہ وہاں روزانہ تقریباً 1500 سے 2000 افراد پانچ وقت نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں، ایسے میں ایئرپورٹ اور اطراف کے علاقوں کی حفاظت کو یقینی بنانا مشکل ہو جائے گا۔ اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل وکرم نانکانی نے عدالت کو بتایا کہ قریبی علاقوں میں تین مساجد موجود ہیں جو پیدل کم فاصلے پر ہیں۔ ان کے مطابق ایک مسجد تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں 13 منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے ، دوسری 1.3 کلومیٹر دور ہے جس تک 18 منٹ میں رسائی ممکن ہے جبکہ تیسری 3 سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور تینوں میں نماز کی ادائیگی ہوتی ہے ۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو نہیں کہہ رہی بلکہ صرف یہ چاہتی ہے کہ رمضان کے محدود عرصے کے لیے ایسا مقام تلاش کیا جائے جہاں سکیورٹی مسائل پیدا نہ ہوں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ رمضان کے بعد عارضی انتظام ختم کر کے زمین کو پہلے کی حالت میں واپس کیا جا سکتا ہے ۔
ریاست کی جانب سے کہا گیا کہ جب قریب میں مساجد موجود ہیں تو ڈرائیور وہاں اپنی گاڑیوں کے ذریعے بھی جا سکتے ہیں، اس لیے پرانے مقام پر اجازت دینا ممکن نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ فریقین کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں بلکہ ایک انسانی بنیاد پر کیا گیا مطالبہ ہے اور حکومت کو صرف متبادل مقام تلاش کرنے کے امکان کا جائزہ لینے کو کہا جا رہا ہے ۔
بنچ نے معاملہ5 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے ریاست اور ایم ایم آر ڈی اے کو ہدایت دی کہ وہ سکیورٹی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایئرپورٹ کے اطراف مناسب مقام کی نشاندہی کریں۔
درخواست گزار یونین کے وکیل شہزاد نقوی کے مطابق مذکورہ شیڈ 1995 سے موجود تھا اور اسے 5 اپریل 2025 کو اچانک منہدم کر دیا گیا، جبکہ ایم ایم آر ڈی اے کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی تعمیر تھی جس کے خلاف شکایت ملنے پر کارروائی کی گئی۔