ممبئی حملوں کے سرغنہ حافظ سعید کے خلاف فیصلہ موخر

   

Ferty9 Clinic

دہشت گردی فینانسنگ مقدمات کو یکجا کرنے جماعت الدعوہ سربراہ کی عرضی
لاہور 8 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک پاکستان انسداد دہشت گردی عدالت نے آج ممبئی حملوں کے سرغنہ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردی کی فینانسنگ کے دو مقدمات میں اپنا فیصلہ موخر کردیا ہے اور سماعت کو منگل تک ملتوی کردیا گیا ہے ۔ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے جج ارشد حسین بھوٹا نے گذشتہ ہفتے جماعت الدعوہ سربراہ کے خلاف دو مقدمات میں فیصلہ ہفتے تک محفوظ رکھا تھا ۔ عدالت کے ایک عہدیدار نے سماعت کے بعد بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے آج حافظ سعید کی درخواست پر غور کیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ ان کے خلاف دہشت گردی کو فینانس کرنے کے تمام مقدمات کو یکجا کرنے اور تفصیلی سماعت کے بعد پھر فیصلہ سنانے کی استدعا کی گئی تھی ۔ عہدیدار نے کہا کہ ڈپٹی پراسکیوٹر نے حافظ سعید کی درخواست کی مخالفت کی اور یہ دلیل پیش کی کہ دو مقدمات میں ان کے خلاف ٹرائیل پوری ہوچکی ہے اور عدالت اس مسئلہ پر قانون کے تحت کسی بھی وقت فیصلہ سناسکتی ہے ۔ عدالت نے تاہم فیصلہ منگل 11 فبروری تک ملتوی کردیا ہے اور اس سلسلہ میںاستغاثہ اور وکلائے صفائی کو نوٹس جاری کی ہے اور کہا کہ وہ حافظ سعید کی درخواست پر اپنا جواب داخل کریں۔ حافظ سعید کو انتہائی سخت سکیوریٹی میں عدالت میںپیش کیا گیا تھا ۔ استغاثہ نے دہشت گردی کی فنڈنگ سے متعلق مقدمات میں حافظ سعید کے خلاف عدالت میں 20 گواہوں کو پیش کیا تھا اور ان کے بیان قلمبند کئے تھے ۔ اس کیس میںحافظ سعید کے قریبی رفقاء بھی ماخوذ ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید اور دوسروں کو 11 ڈسمبر کو اس مقدمہ میںماخوذ کیا تھا اور اس مقدمہ کی یومیہ اساس پر سماعت کی گئی تھی۔
حافظ سعید عدالت میں اپنا بیان پہلے ہی قلمبند کرواچکے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ دہشت گردی کو فینانس کرنے کے مقدمات حافظ سعید کے خلاف لاہور اور گجرانوالا شہروں میں انسداد دہشت گردی محکمہ کی درخواستوں پر دائر کئے گئے تھے ۔ حافظ سعید اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف گواہوں پر وکیل صفائی کی جرح بھی مکمل ہوچکی ہے ۔ محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے حافظ سعید اور ساتھیوں کے خلاف جملہ 23 ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں جو صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میںہیں۔ انہیں لاہور کی کوٹھ لکھ پت جیل میں رکھا گیا ہے ۔