ممبئی حملوں میں زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل قصاب (جنھیں بعد میں پھانسی دے دی گئی تھی) کے اعترافی بیان کے مطابق اگلے ہی روز یعنی 22 نومبر کو ان نوجوانوں کو مختلف اہداف کے نقشے اور اُن کے متعلق آخری بریفنگ دی گئی اور اسی روز شام سات بجے انھیں کیٹی بندر پر موجود ایک بڑی کشتی میں پہنچایا گیا جہاں سے ان کا وہ سفر شروع ہوا جس سے وہ کبھی واپس نہ لوٹے۔ انڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہی وہ مقام تھا جہاں اپنی منزل کی بابت راہنمائی کے لیے مبینہ حملہ آور اپنا جی پی ایس بھی آن کر لیتے ہیں۔ سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ نے ڈان اخبار میں مارچ 2015 میں چھپنے والے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ٹھٹہ ہی وہ مقام تھا جہاں پر ممبئی حملہ آوروں کو تربیت دی گئی اور یہیں سے انھیں مشن کے لیے روانہ کیا گیا۔ دوسری طرف ان دس حملہ آوروں کی شناخت ابھی تک متنازع رہی ہے کہ آیا یہ پاکستانی تھے بھی یا نہیں کیونکہ پاکستان اجمل قصاب کے اعترافی بیان کو درست تسلیم نہیں کرتا۔