پورے شہر میں خوشی کی لہر ، نوٹا کو ووٹ دینے کیلئے مسلمانوں کی رائے منقسم
ممبئی، 19 مئی (یو این آئی) مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے ممبئی کی 6 نشستوں پر 20 مئی کو ووٹنگ ہونے جا رہی ہے ، اس موقع پر اپنی انتخابی مہم کا اختتام ہو چکا ہے ۔ اور کل ووٹنگ کے لیے بڑے پیمانے پر جوش وخروش دیکھا جارہاہے ۔ ممبئی تمام 6 حلقوں کے مسلم علاقوں میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے مسلم نوجوان بڑی تعداد میں سرگرم نظر آرہے ہیں اور ان میں اپنے حق رائے دہی کو لیکر ایک خوشی کی کیفیت پائی جا رہی ہے ۔ مسلم علاقوں میں ہر طرف چہل پہل نظر آرہی ہے ۔ ساتھ ہی کچھ مسلم ووٹرس میں یہ رائے بھی پائی گئی کہ اس بار نوٹا کو ووٹ دینا ہے ۔اس سلسلے میں ممبئی کے ناگپاڑہ، مدن پورہ، سیوڑی کے علاوہ ممبئی مضافات کے باندرہ ،ماہم ،جوگیشوری ، اندھیری ، کرلا اور ممبرا وغیرہ علاقوں میں مسلم ووٹرس بڑے پیمانے پر ووٹنگ کرنے کی تیاریوں میں لگے ہیں۔ مسلمانوں کے کچھ حلقوں اور بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ نوٹا کو ووٹ دے رہے ہیں۔لیکن اس کے برخلاف ایک بڑی تعداد سیکولر پارٹیوں کے حق میں نظر آرہی ہے ۔ اور نوٹا کو ووٹ دینے کو اپنا ووٹ ضائع کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ناگپاڑہ علاقے کے زید خان نے کہا کہ مسلم ووٹرس نوٹا کے جھانسے میں نہ آئیں، یہ دراصل مسلم ووٹوں کو بے اثر کرنے کا حربہ ہے ۔ جو قوم سے غداری کرنے والے مٹھی بھر افراد کی جانب سے کیا جا رہا ہے ۔ جو اپنے چھوٹے موٹے مفادات کے چکر میں مسلم ووٹوں کو ضائع کرنے کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ لیکن مسلم ووٹرس باشعور ہیں اور وہ ہر ایسے حربے کو ناکام کردیں گے جو فرقہ برست طاقتوں کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے کچھ مسلم امیدوار بھی میدارن میں اتارے گئے ہیں تاکہ مسلم ووٹوں کو کو کاٹا جائے ۔جو لوگ سیکولر پارٹیوں سے ناراض ہیں ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے ہماری بابری مسجد گرائی ہم انھیں کیسے ووٹ دے سکتے ہیں۔ انھوں نے بھی کہا کہ ووٹ نوٹا کو دیں گے ۔ممبئی کے آنندنگر میں تنظیم ‘ سیوا فاونڈیشن ” کے ممبئی سیکریٹری نے کہا کہ بتایا کہ ہماری تنظیم اس کام میں لگی ہے اور ہم اقلیتی طبقہ کے افراد کو بتا رہے ہیں کہ ووٹ نوٹاکو دینا چاہے ۔ ممبئی کے ناگپاڑہ علاقے کے عبدالملک جو ایک فلک بوس عمارت میں چوکیدار ہیں، نے کہا کہ ہم بابری مسجد کی شہادت اور ممبئی کے 1992-1993 کے فسادات کو نہیں بھول سکتے ۔ ممبئی کے سیوڑی علاقہ کے سماجی کارکن محمد شفیع انصاری نے سیکولر جماعتوں پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جس سیاسی پارٹی نے بابری مسجد کو شہید کیا اب وہ سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر ہم سے ووٹ مانگ رہی ہے ۔ ایک گھریلو خاتون رخسانہ شیخ ،جو ممبئی فسادات کی متاثرہ ہے ، نے بتایاکہ اس کے گھر کے سامنے ہی مہا آرتی ہوتی تھی۔