بنگلہ دیش میں ہندووں کیلئے پیام ‘ سلمان خان سمیت کئی فلمی شخصیتوں کی شرکت
ممبئی ۔8؍فروری ( ایجنسیز ) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس ) کا صد سالہ سال منایا جا رہا ہے۔ ممبئی میں دو روزہ سنگھ یاترا کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اس میں کلیدی خطبہ دیا۔انہوں نے بحران زدہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی صورتحال پر کہا کہ اگر ملک کی ہندو آبادی اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہونے اور لڑنے کا فیصلہ کرتی ہے تو انہیں دنیا بھر کے ہندوؤں کی حمایت حاصل ہوگی۔بھاگوت نے ممبئی میں آر ایس ایس کے لیکچر سیریز کے دوسرے دن خطاب میں کہا کہ بنگلہ دیش میں تقریباً 1.25 کروڑ ہندو ہیں، اگر وہ وہاں رہنے اور لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو دنیا بھر کے تمام ہندو ان کی مدد کریں گے۔ انہوں نے ہندوستان میں دراندازوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر ہندوستان اور بیرون ملک کی معروف شخصیات موجود تھیں جن میں فلم اداکار سلمان خان اور ہیما مالنی کے علاوہ کئی فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ اپنے خطاب میں، موہن بھاگوت نے آر ایس ایس کے قیام سے لے کر اس کی حب الوطنی اور ہندوتوا کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مضبوط بنانا ہے تو سب کو شامل کرنا ہوگا۔ ہم کسی کیلئے احساس کمتری کا جذبہ رکھ کر آگے نہیں بڑھ سکتے۔انہوں نے کہا کہ رضاکار بھی سیاست میں شامل ہیں، لیکن سنگھ کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ اوپر سے دیکھنے پر غلط فہمی ہوتی ہے۔ میرے کپڑوں سے میرا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سنگھ کے رضاکار روٹ مارچ کرتے ہیں اور جلوس نکالتے ہیں لیکن سنگھ نیم فوجی تنظیم نہیں ہے۔ ہمارا مشن کسی کی مخالفت کیے بغیر کام کرنا ہے۔ سنگھ مقبولیت نہیں چاہتا۔ سنگھ اقتدار نہیں چاہتا۔ سنگھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہے کہ اس وقت ملک میں جو بھی اچھے کام چل رہے ہیں اور جو مستقبل میں بھی جاری رہیں گے وہ صحیح طریقے سے مکمل ہوں۔ موہن بھاگوت نے سماج پر سنیما اور فیشن کے اثرات کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے تقریب میں موجود اداکار سلمان خان پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ کالج اور اسکول کے طلباء بھی سلمان خان جو پہنتے ہیں اس کی نقل کرتے ہیں۔ ان کو پتہ نہیں رہتا ہے کہ اسے کیوں پہننا ہے۔ وہ اسے صرف اس لیے پہنتے ہیں کیونکہ سلمان خان نے پہنا تھا۔