استفادہ کنندگان سیاسی جماعتوں کے ناموں کا عدم انکشاف
حیدرآباد۔ ملک میں 19تا28اکٹوبر کے دوران فروخت کیلئے الکٹورل بانڈ میں سب سے زیادہ الکٹورل بانڈس کی خریداری ممبئی میں عمل میں لائی گئی جن کی جملہ مالیت 130 کروڑ ہے اور 14ویں مرحلہ میں کی گئی الکٹورل بانڈ کو منہاء کروانے میں سب سے زیادہ آگے شہر حیدرآباد رہا جہاں 90 کروڑ کے بانڈ منہاء کروائے گئے ۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ اس مدت کے دوران الکٹورل بانڈ کی منہائی حیدرآباد میں اس لئے زیادہ ہوئی کہ تلنگانہ میں دوباک ضمنی انتخابات کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔ اس مدت کے دوران الکٹورل بانڈ کی خریدی کرنے والوں اور ان سے استفادہ کرنے والوں کی مکمل فہرست ابھی جاری نہیں کی گئی ہے اور 2019-20 کے دوران الکٹورل بانڈ سے استفادہ کرنے والوں کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں 90 کروڑ کے الکٹورل بانڈ کی منہائی کے سلسلہ میں عہدیداروں کا مانناہے کہ وہ آئندہ برس کے دوران استفادہ کنندگان کی تفصیلات جاری کرسکتے ہیں۔ ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کو نقد عطیات کے بجائے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخوں کے ذریعہ فروخت کئے جانے والے الکٹورل بانڈس کے ذریعہ عطیات کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جنہیں عطیہ دہندگان بینک سے حاصل کرتے ہوئے کسی بھی سیاسی جماعت کو دے سکتے ہیں اور سیاسی جماعتیں ان الکٹورل بانڈس کو منہاء کرنے کے اختیارات رکھتی ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ 14ویں مرحلہ کی خریداری کے دوران ملک بھر کی 9ریاستو ںمیں الکٹورل بانڈ خریدیں گئے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ 130 کروڑ مالیت کے بانڈس ممبئی میں خریدے گئے ہیں جبکہ اس مدت کے دوران جو منہاء کئے گئے ہیں ان میں شہر حیدرآباد سر فہرست ہے جہاں 90کروڑ کے بانڈ منہاء کئے گئے ہیں لیکن ابھی یہ بات واضح نہیںہے کہ کس سیاسی جماعت کی جانب سے کتنے الکٹورل بانڈ منہاء کئے گئے ہیں ۔ حیدرآباد کے علاوہ بھوبھنیشور‘ چینائی میں بھی الکٹورل بانڈس منہاء کئے گئے ہیں اور ان کے ذریعہ سیاسی جماعتو ںنے رقومات حاصل کی ہیں لیکن ان کی بھی تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں۔مالیاتی سال 2019-20 کے دوران جملہ 3400 کروڑ کے الکٹورل بانڈس منہاء کئے گئے ہیں جن میں سب سے زیادہ 5ویں مرحلہ میں یعنی ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران منہاء کئے گئے ہیں جن کی جملہ مالیت 3007 کروڑ رہی۔ملک میں عام انتخابات کے 18ماہ گذرنے کے باوجود بھی اب تک ان الکٹورل بانڈس سے استفادہ کرنے والوں کی تفصیلات کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکاہے اور کہا جار ہاہے کہ سیاسی جماعتو ںکی جانب سے تفصیلات جمع نہ کروائے جانے کے سبب یہ تفصیلات جاری نہیں کی جاسکی ہیں۔
