ممبئی، 24 جولائی (یو این آئی)انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعرات کی صبح ممبئی میں صنعتکار انیل ڈی امبانی کی کمپنیوں سے منسلک کئی مقامات پر ایک ساتھ چھاپے مارے ۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے حال ہی میں ریلائنس کمیونیکیشنز اور اس کے پروموٹر ڈائریکٹر انل امبانی کو ‘دھوکہ دہی’ کے زمرے میں شامل کیا تھا۔ ای ڈی کو تلاشی کے دوران متعدد اہم شواہد ملے ہیں، تاہم اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق، یہ چھاپے نیشنل ہاؤسنگ بینک، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی )، نیشنل فنانشل رپورٹنگ اتھارٹی (این ایف آر اے )، بینک آف بڑودہ اور سی بی آئی کی طرف سے درج دو ایف آئی آرز کی بنیاد پر کئے گئے ہیں۔ حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر ای ڈی کی ٹیم نے ممبئی میں انل امبانی کے دفاتر، اداروں اور گروپ کمپنیوں پر کارروائی کی، جو اب بھی جاری ہے ۔ اس دوران انیل امبانی گروپ کے ایک سینئر بزنس ایگزیکٹیو کو بھی جانچ کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ اسے ایک منظم منصوبے کے تحت عوامی پیسے کو ہٹانے کے شواہد دستیاب ہوئے ہیں، جس میں مختلف ادارے بشمول بینک، سرمایہ کار، شیئر ہولڈرز اور عوامی تنظیمیں دھوکہ دہی کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ معاملہ بنیادی طور پر 2017 سے 2019 کے دوران یس بینک سے حاصل کردہ 3,000 کروڑ روپے کے مشتبہ قرضوں کی تحقیقات سے جڑا ہے ۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ قرض جاری ہونے سے کچھ دیر قبل ہی فنڈز کو بینک پروموٹرز سے جڑے اداروں کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ ریلائنس ہوم فائنانس لمیٹڈ (آر ایچ ایف ایل ) سے متعلق چند اہم نتائج بھی ای ڈی کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں۔
ادارے کے مطابق کارپوریٹ قرض کی تقسیم میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جو مالی سال 2017-18 میں 3,742.60 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2018-19 میں 8,670.80 کروڑ روپے ہو گیا۔ یس بینک کے سابق پروموٹرز سے جڑی ممکنہ رشوت ستانی کی تحقیقات بھی اس معاملے میں جاری ہیں۔