ممبئی میں مقیم سنبھل کے شہری تشویش میں مبتلا

   

ممبئی: اتر پردش کے سنبھل میں جامع مسجد کے سروے کو لیکر ہوئی تشدد کی واردات اور پانچ مسلم نوجوانوں کی گولی لگنے سے موت پر عروس البلاد ممبئی میں مقیم سنبھل کے شہری تشویش میں مبتلاہیں اور وہ اس گنگاجمنی تہذٰب والے علاقے میں امن کے لئے خصوصی دعائوں کا اہتمام کر رہے ہیں ۔ممبئی میں سنبھل کے باشندوں کی اکثریت ناگپاڑہ کے شکھلا جی اسٹریٹ ،مضافات میں جوگیشوری کے بہرام باغ ،ساکی ناکہ اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر ہے وہ زیادہ تر بھنگار(اسکراپ) اور ردی کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیںممبئی کے رے روڈ کے داروخانہ علاقے میں بھنگار کے کاروبار سے منسلک ذ ذوالفقار قریشی نے بتایا کہ ان کا تعلق سنبھل سے ہے وہ ان کا آبائی وطن ہے نیز جس جامع مسجد کا ذکر ہو رہا ہے 498؍ سالہ قدیم مسجد ہے اور ان کے آباء و اجداد سمیت وہ خود بھی اس مسجد میں نماز اد اکرتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سنبھل کے حالات تشویشناک ہیں اور ہم یہاں سے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ حالات جلد از جلد معمول پر آجائیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی اطلا ع ملی ہے کہ پولس کے ڈر سے لوگ گھروں کو بند کر کے کہیں چلے گئے ہیں انٹر نیٹ بند ہے فون بند ہے صرف اخبارات اور ٹی وی کی خبروں سے نیز وہاں کے کسی سے رابطہ کرنے پر حقائق معلوم ہوتے ہیں جو انتہائی تشویشناک ہیں۔اسی طرح چودھری سرائے سنبھل کے رہنے والے امان قریشی ممبئی میں پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں انہوں نے بتایاکہ 15؍ رو زقبل ہی وہ سنبھل سے ممبئی آئے تھے اور وہاں پر گذرے ایام کی یادیں ان کے دماغ میں تازہ تھیں لیکن اچانک ہی جب انہیں سنبھل میں ہوئے تشدد کی خبریں ملیں تو انکی سنبھل میں گذارے خوشی کے لمحات غم میں تبدیل ہوگئے انہوں نے بتایا کہ سنبھل کا کاروبار ختم ہو چکا ہے متعدد خاندان کے نوجوانوں کو گرفتاری کا اندیشہ لاحق ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ وہ سنبھل چھوڑ کرمحفوظ مقامات پر پناہ لئے ہوئے ہیں
۔امان قریشی نے مزید بتایا کہ سنبھل کی جامع مسجد میں ہزاروں افراد نماز ادا کرتے ہیں گذشتہ پانچ سو سالوں سے یہ مسجد ہی رہی ہے مگر اچانک یہ خیال کیسے آگیاکہ پہلے وہاں مندر تھا سنبھل میں جو کچھ ہوا وہ سرکاری پشت پناہی سے ہوا ہے