15 مقامات پر تلاش جاری ، کوویڈ سنٹر کے نام پر 12,500 کروڑ کا گھوٹالہ: فڈنویس
ممبئی : انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ممبئی میں بی ایم سی کووڈ سنٹر گھوٹالے کے سلسلے میں آج صبح شہر کے 15 مقامات پر چھاپے مارے۔شیوسینا (ادھو) کے سکریٹری سورج چوان، آئی اے ایس سنجیو جیسوال، سنجے راوت کے بزنس پارٹنر سوجیت پاٹکر کے مقامات پر تلاشی لی جارہی ہے۔یہ کیس 12,500 کروڑ کے بی ایم سی کووڈ سینٹر گھوٹالہ سے متعلق ہے۔ ای ڈی نے بی ایم سی افسران اور سپلائی کرنے والوں کے گھروں پر بھی چھاپہ مارا ہے جنہوں نے کووڈ سنٹر اور دیگر کی تعمیر میں مدد کی تھیکووڈ سنٹر کے انتظام کا ٹھیکہ دھوکہ دہی سے حاصل کیا گیا تھا کوروناکے دور میں مہاراشٹر میں کئی مقامات پر کووڈ سنٹر بنائے گئے تھے۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ مراکز کے ٹھیکے ادھو ٹھاکرے اور ان کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے کے قریبی لوگوں کو دیئے گئے تھے۔پیر کو مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے الزام لگایا تھا کہ بی ایم سی میں کووڈ سنٹر کے نام پر 12,500 کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔حکام کے مطابق، سوجیت پاٹکر اور ان کے تین ساتھیوں نے وبائی امراض کے دوران کووڈ-19 فیلڈ اسپتالوں (کووڈ سنٹرز) کے انتظام کے لیے دھوکہ دہی سے ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں، ممبئی کی آزاد میدان پولیس نے پاٹکر، اس کے تین ساتھیوں اور لائف لائن ہاسپٹل مینجمنٹ سروسز فرم کے خلاف جعلسازی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ای ڈی نے اس معاملے میں منی لانڈرنگ کے زاویے کی تحقیقات کے لیے پولیس ایف آئی آر کی بنیاد پر ایک کیس درج کیا تھا۔ ای ڈی نے جنوری میں بی ایم سی کمشنر اقبال چاہل سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔مرکز میں تعینات ڈاکٹروں کے پاس میڈیکل سرٹیفکیٹ نہیں تھیانہیں میڈیکل کے شعبے میں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ ان کووڈ سنٹرز میں تعینات ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے پاس میڈیکل سرٹیفکیٹ نہیں تھے۔ وہ بیماروں کا علاج کرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔