ممبئی میں کورونا وائرس سے فوت مسلم شخص کو نذر آتش کیا گیا

   

ممبئی۔ 2 ۔اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی کے مضافات میں کل ایک مسلم عمر رسیدہ شخص کا کرونا وائرس کے سبب انتقال ہوگیا۔ مقامی مالونی قبرستان کے انتظامیہ نے ان کی قبرستان میں تدفین کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد ان کی نعش کو اس کے فرزند کی موجودگی میں نذر آتش کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے سبب ممبئی سمیت ریاست کے مسلمانوں میں غم و غصہ پایاجاتا ہے ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ صبح کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی موت کے بعد جب ان کے بیٹے نے اپنے والد کی نعش کو مالونی قبرستان میں تدفین کرنے کی کوشش کی تو قبرستان کے ٹرسٹیوں نے یہاں پر اس شخص کی تدفین کرنے سے انکار کر دیا ۔بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے مسلم شخص کے بیٹے نے کچھ مقامی لوگوں کے ساتھ قبرستان کے ٹرسٹیوں کو کافی سمجھایا کہ وہ نعش کو یہاں پر دفن کرنے دیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے اور انہوں نے یہاں قبرستان میں کرونا وائرس میں مبتلا مسلم شخص کی نعش کو دفن نہیں ہونے دیا ۔یہ سب ماجرہ دیکھ کر وہاں پر موجود پولیس والوں نے ٹرسٹیان کو بھی سمجھانے کی کوشش کی جس کے جواب میں ٹرسٹیوں نے میت کو قبرستان میں دفن نہ کرنے دینے کا یہ جواز پیش کیا کہ مالونی قبرستان چھوٹا ہے اور اطراف میں رہائشی علاقہ ہے نیز کرونا وائرس کے جراشیم اطراف کی بستیوں میں بھی پھیل سکتے ہیں لہذا قبرستان میں تدفین کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔اطلاعات کے مطابق اس درمیان متوفی کے رشتہ دار نے مقامی عوامی نمائندوں سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ آخر میں پولیس نے لڑکے کو سمجھایا اور کہا کہ تھوڑی دور پر واقع شمشان بھومی میں وہ اپنے والد کی نعش کو نذر آتش کر دے جس کے بعد کافی سمجھانے کے بعد بیٹا مان گیا اور پھر صبح میں دس بجے کے قریب مسلم شخص کی نعش کو نذر آتش کر دیا گیا جس کے بعد مسلم علاقوں میں اس معاملے کو لیکر کافی بے چینی دیکھی گئی ۔