ممبئی میں گاندھی جی کے پڑپوتے کو حراست میں لیا گیا

   

’ہندوستان چھوڑو‘ تحریک کے 81سال

ممبئی: گاندھی جی کو ہندوستان چھوڑو تحریک کی شروعات کے دن (9اگست 1942) برطانوی پولیس کے ذریعہ نشانہ بنائے جانے کے ٹھیک81سال بعد آج چہارشنبہ کو یہاں ان کے پڑپوتے تشار گاندھی کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا گیا۔ آج صبح جب تشار گاندھی ہندوستان چھوڑو تحریک کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جنوبی ممبئی کے تاریخی اگست کرانتی میدان جانے کی تیاری کر رہے تھے ، تو انہیں سانتا کروز پولیس نے ان کے گھر کے باہر ہی راستے میں روک لیا۔ تشار گاندھی نے بتایاکہ جب میں اگست کرانتی دن کی یاد منانے کیلئے جا رہا تھا، تو سانتاکروز پولیس اسٹیشن نے امن و امان کی برقراری کا حوالہ دیتے ہوئے مجھے روکا اور حراست میں لے لیا۔ ’’میںاس وقت سانتاکروز پولیس اسٹیشن میں ہوں‘‘۔ تشار گاندھی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس کے ذریعہ ان کو اس طرح کی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے جو کل دیر رات سے ان کے گھر کے باہر انتظار کر رہے تھے ۔تشار گاندھی نے کہاکہ ’’میں بہت خوش ہوں کیونکہ مہاتما گاندھی اور کستوربا (باپو اور با) کو بھی اس تاریخی موقع پر نوآبادیاتی برطانوی پولیس نے حراست میں لیا تھا ‘‘۔ انہیں کچھ دیگر گاندھیائی کارکنوں اور تنظیموں کی طرح کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی ،جو آج اگست کرانتی میدان جانے کا ارادہ کررہے تھے اور ہندوستان چھوڑو کے تاریخی موقع پر ان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے ۔تشار نے اعلان کیاکہ ’’مجھے صرف یہاں بیٹھنے کیلئے کہا گیا ہے ، وہ میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کر رہے ہیں، یہ پولیس کمشنر کے حکم کے تحت ہے، مجھے جانے کی اجازت ملنے پر میں اگست کرانتی کے موقع پر اس کے شہداء کی یاد ضرور مناؤں گا‘‘۔
آج صبح نئے سرے سے تیار کردہ اگست کرانتی میدان ایک نئی مہم ’’میری ماں، میرا دیش‘‘کا مقام طئے کیا گیا تھا جس میں چیف منسٹر مہاراشٹرا ایکناتھ شنڈے ، ڈپٹی چیف منسٹرس دیویندر فڈنویس اور اجیت پوار اور دیگر شامل تھے ۔ آس پاس کے علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات اور ٹریفک کی پابندیاں تھیں۔جبکہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جی جی پاریکھ کو اگست کرانتی میدان پہنچنے سے روکا گیا۔