نئی دہلی، 24 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے 2006 کے ممبئی ٹرین دھماکہ معاملے میں تمام 12 افراد کو بری کرنے کے بمبئی ہائی کورٹ کے 21 جولائی کے فیصلے پر جمعرات کو روک لگاتے ہوئے کہا کہ فی الحال انہیں گرفتار نہیں کیاجائے گا۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے اس سلسلے میں یہ حکم دیا۔ بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس عرضی کو قبول کر لیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو دیگر زیر التوا مہاراشٹرا کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (ایم سی اوسی اے ) مقدمات میں مثال نہیں سمجھا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے مہاراشٹر حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ کے فیصلے کی صداقت کو چیلنج کرنے والی خصوصی اجازت کی درخواست پر تمام متعلقہ ملزمان کو نوٹس جاری کیا۔ بنچ نے اس دلیل پر غور کیا اور واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو نظیر کے طور پر نہیں سمجھا جائے گا۔ ہائی کورٹ نے پیر 21 جولائی 2025 کو فیصلہ سنایا تھا۔ اس نے خصوصی مکوکا عدالت کے 2015 کے فیصلے کو پلٹ دیا، جس میں پانچ ملزمان کو سزائے موت اور سات کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی اپیل سماعت کے لئے منظورکرلی اوربامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگادی۔ مکوکا عدالت نے کمال انصاری (اب متوفی)، محمد فیصل شیخ، احتشام صدیقی، نوید حسین خان اور آصف خان کو سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے تنویر احمد ابراہیم انصاری، محمد ماجد شفیع، شیخ محمد، محمد ساجد مرغوب انصاری، مزمل عطا الرحمان شیخ، سہیل محمود شیخ اور ضمیر احمد شیخ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سات بم دھماکے ہوئے تھے ۔
اس واقعے میں 189 افراد ہلاک اور 820 زخمی ہوئے تھے ۔
ممبئی کے ڈیری پلانٹ میں امونیا گیس کا رسائو
ممبئی، 24 جولائی (یو این آئی)ممبئی کے گورگاؤں (مشرق) میں واقع مہانند ڈیری میں 23 جولائی کی شب اس وقت سنسنی پھیل گئی جب امونیا گیس کے اخراج شروع ہوا یہ رساو ایک 3000 کلوگرام کے ٹینک میں نصب ناقص والو کے باعث ہوا جس کے بعد رات 9 بج کر 12 منٹ پر صورتحال کا علم ہوتے ہی فوری طور پر ممبئی فائر بریگیڈ، پولیس اور خطرناک مادہ سے نمٹنے والی یونٹ سمیت کئی ایجنسیاں حرکت میں آگئیں۔ احتیاطی تدابیر کے تحت فوری طور پر پلانٹ کی بجلی کی سپلائی بند کر دی گئی۔ امونیا کا اخراج گراؤنڈ فلور پر موجود تقریباً 2000 مربع فٹ کے ریفریجریشن یونٹ سے ہوا۔ خطرے کے پیش نظر وہاں موجود تمام کارکنوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکال دیا گیا۔ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے اہلکاروں نے 25 سانس لینے کے آلات سے لیس ہوکر فوری کارروائی کی اور 15 سے 16 خراب والوز بند کرکے مزید رساو کو روکا۔ خطرناک مادہ سے نمٹنے والی ٹیم کے ارکان نے کیمیکل سوٹ پہن کر اپنی گاڑیوں میں موجود سیلنٹ کا استعمال کرتے ہوئے والو سے لیک ہونے والی گیس پر قابو پایا۔
آتش فرو عملے نے امونیا کو غیر مؤثر بنانے کے لیے تین ہائی پریشر فرسٹ ایڈ لائنز اور ایک چھوٹی ہوز لائن کو چار موٹر پمپ سے جوڑا میڈیا رپورٹ کے مطابق تقریباً 15 تا 20 کلوگرام بچی ہوئی امونیا گیس کو پریزول 68 چکنا کرنے والے تیل کے ساتھ ملا کر دوسرے ذخائر کے ٹینک میں منتقل کیا گیا۔
علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر محفوظ بنا دیا گیا اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے پس منظر میں والو کی خرابی کے اسباب جاننے اور آئندہ کے خطرات کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ مزید معلومات کا انتظار ہے ۔