ممبئی ٹرین دھماکہ معاملہ میں 12 ملزمین کی برأت کو چیلنج

   

نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) مہاراشٹر حکومت نے ممبئی 2006 میں ہوئے ٹرین دھماکہ کیس میں تمام 12 قصورواروں کو بری کرنے کے بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے منگل کو چیف جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی والی بنچ سے درخواست کی کہ وہ اس کیس کی فوری سماعت کرے ۔مسٹر مہتا نے بنچ سے کہا کہ خصوصی اجازت کی عرضی تیار ہے ، براہ کرم اسے کل درج کریں۔ یہ ایک بہت ہی ضروری درخواست ہے ۔ اس پر بنچ نے جمعرات /24 جولائی کوکیس کی فہرست پر اتفاق کیا۔بامبے ہائی کورٹ نے پیر کے روز اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اس نے خصوصی مکوکا عدالت کے 2015 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے حکم کو مسترد کر دیا، جس میں پانچ ملزمین کو موت کی سزا اور سات ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔مکوکا عدالت نے کمال انصاری (مرحوم)، محمد فیصل شیخ، احتشام صدیقی، نوید حسین خان اور آصف خان کو سزائے موت سنائی تھی۔عدالت نے تنویر احمد، ابراہیم انصاری، محمد ماجد شفیع، شیخ محمد، محمد ساجد مرغوب انصاری، مزمل عطاء الرحمن شیخ، سہیل محمود شیخ اور ضمیر احمد شیخ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔قابل ذکر ہے کہ 11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سات بم دھماکے ہوئے تھے ، اس افسوسناک واقعے میں 189 افراد ہلاک اور 820 مسافر معذور ہو گئے تھے ۔ شام کی رش کے وقت وقفے وقفے سے ہونے والے بم دھماکوں نے لوگوں کو زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔

12 بے قصور افراد نے جیل میں گزارے 19 برس
حسین دلوائی نے پولیس کی جوابدہی پر سوال اٹھایا
ممبئی ، 22 جولائی (یو این آئی) 11 جولائی 2006 کو ممبئی کے مضافاتی ریلوے پر ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں بامبے ہائی کورٹ نے تمام 12 ملزمان کو بری کر دیا، جو اب بے قصور ثابت ہو چکے ہیں۔ ان افراد نے عمر قید سے بھی زیادہ، یعنی 19 سال جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اس کیس میں پولیس نے 45,500 صفحات پر مشتمل دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کیں، مگر ان میں سے ایک بھی ایسا ثبوت پیش نہ کر سکی جو مجرم ہونے کا قطعی ثبوت بن پاتا۔ نتیجتاً عدالت نے تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے پولیس کی اصل ذمہ داری پر سوال اٹھایا ہے ۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر یہ افراد مجرم نہیں تھے تو پھر اصل بم دھماکے کس نے کیے ؟ انہوں نے کہا کہ پولیس کی یہ خاموشی اور ناکامی صرف دھماکوں میں مرنے والوں کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ ان بے گناہ افراد کے ساتھ بھی ناانصافی ہے جنہوں نے 19 برس قید کی اذیت جھیلی۔
مندر انتظامیہ کے اسسٹنٹ سیکورٹی مینیجر کی جانب سے گووالیہ ٹانک پولیس اسٹیشن (گام دیوی پولیس) میں شکایت درج کرائی گئی، جس کے مطابق یہ دھمکی ایک آؤٹ لک ای میل آئی ڈی سے موصول ہوئی جو ایمانوئل شیکھرن نامی شخص سے منسوب ہے ۔ای میل میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمل ناڈو کی حکومت، خاص طور پر دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے )، فوری طور پر آنجہانی نینر داس کی جانب سے کی گئی سفارشات کو تمل ناڈو پولیس کے سلسلے میں نافذ کرے ۔ بھیجنے والے نے انتباہ دیا کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو اسکون مندر پر حملہ کیا جائے گا۔