ممبئی، 26 نومبر (یو این آئی) ممبئی کی ووٹر لسٹ میں سنگین بے ضابطگیوں نے شہر میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے ۔ حکام کے مطابق انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے دو بار ناموں کا اندراج سامنے آیا ہے ۔ ابتدائی جانچ میں اندازہ ہوا ہے کہ فہرستوں میں تقریباً 4.33 لاکھ ووٹرز ایک سے زائد مرتبہ درج ہیں، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 11 لاکھ مشتبہ ڈپلیکیٹ اندراجات پائے جانے کا خدشہ ہے ، جس نے انتخابی عمل کی سالمیت کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے ۔انتظامیہ کے مطابق فرضی ووٹروں کی نشاندہی اور انہیں فہرستوں سے ہٹانا اس وقت ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے ۔ اس مقصد کے لیے 23 نومبر سے 5 دسمبر تک ایک خصوصی تصدیقی مہم شروع کی گئی ہے ، جس میں غلط یا نقل شدہ ناموں کو حذف کرنے کا عمل انجام دیا جائے گا۔اس معاملے نے سیاسی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا ہے ۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا، ایم این ایس، این سی پی (شرد پوار گروپ)، کانگریس، کسان و ورکرز پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں اور دیگر اپوزیشن گروہوں نے مبینہ ہیرا پھیری کے خلاف ”سچائی مارچ” نکالا اور الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فہرستوں کی درستگی برقرار رکھنے میں ناکامی ہوئی ہے ۔احتجاج کے بعد شندے گروپ کی شیو سینا، این سی پی (اجیت پوار دھڑا) اور بی جے پی کے لیڈروں نے بھی ووٹر لسٹ کی فوری صفائی کا مطالبہ کیا۔ ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے نے اعتراف کیا کہ معاملہ ”انتہائی سنجیدہ” ہے اور بی ایم سی کی جانب سے دی گئی نشاندہی کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تصدیق کی آخری تاریخ 5 دسمبر تک بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے ۔اسی دوران ممبئی کانگریس کی صدر اور رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے الزام لگایا کہ دھاراوی کے ووٹروں کو جان بوجھ کر دوسرے وارڈوں میں منتقل کیا گیا ہے ،۔
جس کی وجہ سے ان کے لیے انتخاب کے دن اپنے پولنگ مراکز تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدام مخصوص طبقات کے ووٹوں کو محدود کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے ۔ماہرین کے مطابق ووٹر لسٹ کی جانچ پڑتال تیز ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ شفافیت کو یقینی بنائے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرے ۔
