ممبئی : شہر ممبئی میں کے علاقے باندرہ میں واقع کراچی بیکری جسے پاکستان کے شہر کراچی کے نام سے منسوب ہونے کی وجہ سے تنازعہ کا سامنا تھا اسے کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے بند کردیاگیا۔کراچی بیکری کی بنیاد 1947 میں تقسیم ہند کے دوران ہندوستان سے ہجرت کرنے والے ایک سندھی شخص نے رکھی تھی۔گزشتہ برس نومبر میں مہاراشٹرا نونیرمن سینا (ایم این ایس) کے نائب صدر نے بیکری کے باہر احتجاج کیا تھا۔انہوں نے بیکری کے سندھی مالک کو دکان کا نام تبدیل کرنے پر زور دیا تھا جو ان کے مطابق‘ملک دشمن اورغیر محب وطن ہے۔بیکری کے منیجر رامیشور واگھمارے نے کہا کہ بیکری کو نام تبدیل کرنے کے تنازع کی وجہ سے بند نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پرانی لیز کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد ہم نے دکان بند کردی۔ جگہ کے مالک کرائے کے طور پر زیادہ رقم کا مطالبہ کررہے تھے جو ہمارے لیے ناقابلِ قبول تھا۔منیجر نے مزید کہا کہ کورنا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی کاروبار میں نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چند مہینوں تک کاروبار بند رکھا لیکن آخر کار بیکری کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔بیکری کے منیجر رامیشور واگھمارے کے اس بیکری کی جگہ اب ایک آئسکریم پارلر کھولا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیکری مالکان خود اگلے لائحہ عمل کا تعین کریں گے کہ بیکری کے لیے کوئی نئی جگہ کرائے پر لی جائے یا برانڈ کو ممبئی میں ختم ہونے دیا جائے۔منیجر کا کہنا تھا کہ‘نام تبدیل کرکے ہتھیار ڈالنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، بیکری کا کاروبار قانونی تھی اور تمام لائسنسز اور منظوریاں حکومتی حکام کی جانب سے دی گئی تھیں۔