!ممتاز ‘ ماجد و معراج کا نامپلی میں جنگل راج

   

حیدرآباد۔ یہ بات عام سمجھی جاتی ہے کہ کسی بھی غیر مجاز کام کی انجام دہی کیلئے سیاسی سرپرستی اور پروٹیکشن منی کافی ہے ! جس کے بعد کسی کی حق تلفی جبراً وصولی اور ناجائز قبضے آسان بن جاتے ہیں۔ کل تک پرانے شہر میں ایسے حالات شہریوں کی نظر میں عام بات تھی لیکن اب تازہ حالات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ نیا شہر بھی بالخصوص مسلم نمائندگی والے علاقے اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ پروٹیکشن منی کی سرپرستی میں پرانے شہر کے ممتاز ایم ایل اے کے بعد اب نئے شہر میں ماجد ، معراج کی جوڑی سرخیوں میں چھائی ہوئی ہے۔ ان کے ظلم و جبر میں پولیس بھی مبینہ طور پر شامل حال ہے اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان دنوں ایک ضعیف خاتون کی موروثی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرتے ہوئے اس ضعیف مسلم خاتون کو بے سہارا کردیا گیا۔ افسوس کہ ان تمام سرگرمیوں کا پولیس کو علم ہونے کے باوجود وہ لاتعلقی ظاہر کرتی ہے۔ ایسا ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کی بغیر سیاسی سرپرستی کے علاقہ میں کوئی کام نہیں کرسکتا۔ وہ چاہتے ہیں تو کسی کو منصب عطا کرسکتے ہیں تو کسی کو جنگلی اور چور بھی بناسکتے ہیں اور جو چاہے کرسکتے ہیں۔ جنگلی سے جنگل راج اور چور سے شور مچاتے ہوئے اپنی بات منواتے ہیں۔ ان کے خلاف حق کی آواز اٹھانے والے کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے یا پھر پولیس کے ذریعہ پریشان کیا جاتا ہے۔ نئے شہر کے علاقہ میں ایک ضعیف خاتون کو جائیداد سے بیدخل کرتے ہوئے راتوں رات 50 سے زائد مستنڈوں کو جائیداد پر بٹھادیا گیا۔ اس جائیداد کے مالکین بیرون ملک رہتے ہیں، نگرانکار کو اپنے بس میں کرلیا گیا پھر سارے اہم دستاویزات کا سرقہ کرلیا گیا۔ مکان سے دیگر قیمتی اشیاء کو تک انہوں نے نہیں چھوڑا، اور اب یہ لوگ شائد وکیل کے انتقال کے منتظر تھے تاکہ ضعیف خاتون کو بیدخل کردیا جائے۔ ان کی ان سرگرمیوں سے شہری بدظن ہوگئے ہیں اور شہریوں میں یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ ان کا ظلم آخر کب ختم ہوگا۔شہری، معراج و ماجد کی جوڑی کے تعلق سے مختلف تبصرے کررہے ہیں کہ چور اور جنگلی کے ساتھ ان کا جنگل راج عوام کیلئے ناقابل بیان پریشانیوں کا سبب ہے۔ شہری پولیس کی کارکردگی سے خاموشی بلکہ لاقانونیت کی مثال دے رہے ہیں۔ ان کے یا ان کے حواریوں کے خلاف کسی شکایت پر پولیس ان کی اجازت کے بغیر کارروائی نہیں کرتی اور ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا بلکہ خود پولیس پر الزام ہے کہ وہ آؤٹ آف پولیس اسٹیشن سیٹلمنٹ کا مشورہ دیتی ہے۔ شہری ان کربناک حالات سے گزرتے ہوئے اپنا درد ظاہر کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ چونکہ کمیونٹی اور فرینڈلی پولیس کا ان علاقوں میں کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا بلکہ پولیس پولٹیکل فرینڈلی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے الزامات کا سامنا کررہی ہے۔