ممتا بنرجی ترنمول مخالف ووٹ کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں:بی جے پی

   

اپوزیشن جماعتوں سے ترنمول کی دوری اور وزیراعظم سے ملاقات کی حکمت پر زعفرانی جماعت حواس باختہ

کلکتہ 13جنوری (سیاست ڈاٹ کام )وزیرا عظم نریندر مودی سے کلکتہ دورے کے دوران ممتا بنرجی کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم سے ملاقات اور دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کی ہونے والی میٹنگ سے دوری قائم کرکے ترنمول مخالف ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے ۔بنگال بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ ممتا بنرجی نے کانگریس کے کارگزار صدر سونیا گاندھی کی دہلی میں ہونے والی میٹنگ سے دوری یا پھر بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ سوچا سمجھا فیصلہ ہے ۔اس کے پیچھے کا مقصد بنگال میں کانگریس اور سی پی ایم اتحاد کو فائدہ پہنچانا ہے ۔اسی طرح ممتا بنرجی کا وزیر اعظم کے کلکتہ دورے کے دوران راج بھون جاکر ملاقات کرنا بھی ایک سوچی سمجھی نیتی کا نتیجہ ہے ۔ممتا بنرجی نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان کچھ پک رہا ہے ۔بی جے پی لیڈر نے کہا کہ 2019کے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی نے ریاست کی بڑی پارٹی ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی مگر اب ترنمول کانگریس کانگریس اور سی پی ایم اتحاد کو اہمیت دے کر حکومت مخالف ووٹ کو منتشر کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔تاہم بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ممتا بنرجی یہ حکمت عملی کام نہیں آنے والی ہے ۔بنگال کے عوام نے پہلے ہی 2021میں بی جے پی کو ریاست کے اقتدار سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔2019کے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی نے 42سیٹوں میں سے 18سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔بی جے پی نے 41فیصد اور ترنمول کانگریس نے 43فیصد ووٹ حاصل کیا تھا۔کانگریس اوسی پی ایم کے درمیان اتحاد نہیں ہونے کی وجہ سے ترنمول کانگریس مخالف ووٹ بی جے پی کے حق میں چلا گیا تھا۔بی جے پی نے کہا کہ ممتا بنرجی سی پی ایم اور کانگریس کو ریاست کی سب سے اہم اپوزیشن جماعت بتانے کی کوشش کررہی ہے ۔خیال رہے کہ مودی اور ممتا بنرجی کی ملاقات پر جہاں بی جے پی نے تنقید کی ہے وہیں کانگریس اور بایاں محاذنے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ ممتا بنرجی صرف دکھاوا کیلئے این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کررہی ہیں مگر بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان اندرون خانہ رابطے ہیں اور ممتا بنرجی کو شاردا اور ناردا سے بچنا بھی ہے ۔ممتا بنرجی نے سونیاگاندھی کی میٹنگ سے دوری بناکر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کس طرف ہیں۔ترنمول کانگریس کے لیڈر نے بی جے پی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی بین السطور کو پڑھنا بند کردے ہیں۔ترنمول کانگریس ہی وہ جماعت ہے جو واضح انداز میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کررہی ہے ۔ہم نے ہی سب سے آوا ز بلند کی تھی۔ترنمول کانگریس کے لیڈر تاپس رائے نے کہا کہ بی جے پی پہلے خود سوچے اس نے بنگال میں ترنمول کانگریس کو کنارہ لگانے کیلئے کانگریس اور سی پی ایم سے ہاتھ ملایا۔سی پی ایم لیڈر سوجن چکرورتی نے کہا کہ ممتا بنرجی اور بی جے پی کے درمیان میچ فکس ہے ۔سوجن چکرورتی نے کہا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کا دوہرا رویہ ہے ۔دونوں پارٹیوں کے درمیان میچ فکس ہے ۔دونوپارٹیاں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔صرف کانگریس اور بایاں محاذ ہی بی جے پی کی پالیسیوں کی مخالف رہی ہیں۔