نوبنو گھیراؤ مہم:بی جے پی کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ ۔آتشیں اسلحہ ضبط
کولکتہ:بی جے پی کی ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو گھیراؤ مہم کے دوران بی جے پی کارکن اورپولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ۔بی جے پی ورکروں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کئی مقامات پر احتجاج کو ناکام بنادیا۔ ہوڑہ میدان میں بی جے پی کارکن اورپولیس کے درمیان جھڑپ اس وقت شدت اختیار کرگئی جب پولیس نے بی جے پی ورکروں کو آگے بڑھنے سے روک دیا توبی جے پی کارکنوں نے پولیس پر اینٹیں اور بم پھینکنا شروع کردیا ہے ۔ اس کے بعد پولیس نے مجمع کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس چھوڑے ۔اس کے باوجود صورتحال قابو میں نہیں آئی تو پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کئے ۔ جس کے بعد بی جے پی کارکن منتشر ہوئے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت ملیک پھاٹک کے قریب بی جے پی کارکن سے آتشیں اسلحہ برآمد ہوا اور اس شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔بی جے پی کی نوبنومہم کو لے کر صبح سے ہی بی جے پی ورکروں اور پولیس کے درمیان تناؤ کا ماحول تھا۔ جلوس دوپہر 12 بجے شروع ہونا تھا، لیکن مبینہ طور پر بی جے پی قائدین کی گاڑیاں کئی جگہوں پر روک دی گئی تھیں۔بی جے پی قائدین کسی بھی طرح ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو جانے کیلئے بضد تھے ۔نو بنو کے آس پاس تین زون بنائے گئے تھے اور ہرجگہ بڑی تعداد میں پولیس اہلکار کو تعینات کیا گیا تھا۔ادھر ہاؤڑہ میدان میں جلوس شروع ہونے سے پہلے بی جے پی کارکنوں نے پولیس کی رکاوٹیں ہٹا دیں۔ وہیں کولکتہشہر ہسٹنگ میں بی جے پی کارکن بڑی تعداد میں جمع تھے ۔یہاں بھی پولیس کی رکاوٹ کو ہٹا کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگے ۔پولیس نے بی جے پی کے جلوس کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھیوں کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے اینٹوں کی بارش شروع کردی۔ ہیسٹنگ میں بی جے پی کے متعدد کارکن زخمی ہوئے ۔کیلاش وجے ورگی اور لاکٹ چٹرجی سمیت بی جے پی قائدین پولیس کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بعد ہسٹنگ چوراہے پر بیٹھ گئے ۔ہسٹنگ، ہاؤڑہ میدان کے علاوہ سانتراگاچھی، سنٹرل ایونیو میں تناؤ کا ماحول تھا۔