ممنوعہ سونے کی اسمگلنگ جاری

   

سال 2020 میں خلیجی ممالک سے شمس آباد ایر پورٹ کے ذریعہ 15.1 کروڑ مالیتی 35 کلو گرام سونا لایا گیا
حیدرآباد: بین الاقوامی سفر پر کوویڈ 19 پابندیوں کے باوجود خلاف قانون طریقوں سے سونا لایا جارہا ہے۔ اس سال اب تک خلیجی ممالک سے راجیو گاندھی انٹر نیشنل ایرپورٹ، شمس آباد کو 15.1 کروڑ روپئے سے زائد مالیت کے زائد از 35 کلو گرام سونے کو اسمگلرس نے ان کے خلاف قانون طریقوں سے لایا۔ اس سلسلہ میں کسٹم عہدیداروں نے سال 2020 میں 62 کیسیس درج کئے جبکہ انہوں نے سال 2019 میں 88 کیسیس بک کئے تھے اور یہاں پہنچنے والے مسافرین کے قبضہ سے 19.65 کروڑ روپئے مالیت کا 58.145 کلو گرام سونا ضبط کیا تھا۔ دونوں تلگو ریاستوں اور پڑوسی ریاست کرناٹک میں سونے کی مانگ میں ہورہے اضافہ کو غیر قانونی طریقوں سے ہورہی سونے کی اسمگلنگ کو اس کی ایک وجہ سمجھا جارہا ہے۔ کسٹمس کے ذرائع کے مطابق بیرونی ممالک سے یہاں سونا لانے والے اسمگلرس ان کی جان کو خطرہ میں ڈال کر نت نئے طریقوں کے ذریعہ اس کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔ سونے کو کپڑوں، الیکٹریکل اشیاء اور ٹرالی بیاگس میں چھپا کر اور دوسرے طریقوں سے لایا جاتا ہے۔ کیش مشینس، وئیکم کلینرس، آئرن باکسیس، مکسرس ، ٹرالی بیاگس اور دوسری چیزوں میں ممنوعہ سونے کو اسمگل کرنے والے لوگ زیادہ تر وہ ٹورسٹس ہوتے ہیں جنہیں دبئی اور دیگر ممالک میںاسمگلرس کی جانب سے اس کام کیلئے لالچ دیا جاتا ہے۔ پرانی تکنکس جیسے انڈر گارمینٹس، ساکس، شوز اور ٹروزرس کے خفیہ پاکٹس میں سونا چھپاکر لانے والے زیادہ تر افراد ہوتے ہیں جو ان کے دوستوں اور ارکان خاندان کے لئے سستی قیمت پر سونا خریدتے ہیں اور لے آتے ہیں یا پھر مقامی مارکٹ میں اسے فروخت کرکے کچھ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ حال ہی میں کسٹمس کے عہدیداروں نے ایک شخص کو گرفتار کیا جس نے اس کے جینس کے زپر کے اندر 71.47 گرام وزن کے سونے کے 12 ٹکڑوں کو چھپا رکھا تھا۔ اس عہدیدار نے کہا کہ وندے بھارت مشن فلائیٹس میں بھی سونے کی اسمگلنگ بہت ہورہی ہے۔