مناسک حج جاری ، آج رُکن اعظم ’وقوفِ عرفات ‘

,

   

لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَ لَبَّیْکَط لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَـکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّـعْمَۃَ لَـکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَـکَ ط

وادی منیٰ (مکۃ المکرمہ) : مناسک حج کا آغاز ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں حجاج کرام وادی منیٰ پہنچ چکے ہیں اور مزید فرزندانِ توحید کا آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ مِنیٰ میں اُن کیلئے خیموں کی بستی بسا دی گئی ہے اور ان کا آج پیرکی رات قیام منیٰ میں ہوگا۔ سربراہ وزارت حج وعمرہ ذیلی شعبہ ڈاکٹر محمد قرنی نے بتایا کہ اندرون ملک سے 1 لاکھ 80 ہزار عازمین طواف قدوم کے بعد منیٰ پہنچیں گے، بیرون ملک سے آئے 40 فیصد سے زیادہ عازمین براہ راست میدان عرفات پہنچیں گے۔ منگل کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عازمین حج مِنیٰ سے میدان عرفات روانہ ہوں گے جبکہ حج کا رکن اعظم ’وقوف عرفہ‘ کیلئے میدانِ عرفات روانہ ہوں گے۔ عازمین کی حفاظت کیلئے سعودی محکمہ شہری دفاع نے گیس سلنڈر رکھنے کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ 90 ممالک سے 1300 شاہی مہمان عازمین بھی اس سال فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔سعودی حکام کو توقع ہے کہ رواں برس 160 ملکوں سے 20 لاکھ سے زیادہ عازمین حج ادا کریں گے۔واضح رہے کہ حج سیزن میں مدینہ منورہ آنے والے عازمین حج آٹھ دن قیام کرتے ہیں ۔ بعدازاں مکہ مکرمہ روانہ ہو جاتے ہیں۔جو عازمین براہ راست مدینہ آتے ہیں ان کی واپسی جدہ سے ہوتی ہے جبکہ حج کے بعد آنے والے حجاج کی واپسی مدینہ سے ہی کی جاتی ہے۔ گزشتہ سال 1443 ہجری میں حجاج کرام کی تعداد کو 9 لاکھ 26 ہزار تک محدود رکھا گیا تھا، ان میں سے بیرون ملک سے آنے والے حجاج کرام کی تعداد 7 لاکھ 81 ہزار تھی۔کورونا وبا سے قبل 2019 میں دنیا بھر سے تقریباً 25 لاکھ مسلمانوں نے جج ادا کیا تھا۔