اضلاع میں رائے دہی کے تناسب میں اضافہ ، علماء کی کاوشوں کا نتیجہ ، روزنامہ سیاست کا اہم رول
مکتھل۔14 مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاست تلنگانہ کے اضلاع میں لوک سبھا انتخابات کو لیکر مسلمانوں میں جو جذبہ اور جوش و خروش تھا اور جس دلچسپی اور اہتمام کے ساتھ بزرگوں ، نوجوانوں اور معزز خواتین نے بڑی فکرمندی کے ذریعہ رائے دہی کے عمل میں حصہ لیا یقینا یہ جذبہ بڑا قابل ستائش اور قابل قدر ہے ، اور شہر کے مقابلہ میں اضلاع میں رائے دہی کے تناسب میں بھی قابل قدر اضافہ حضرات علمائے کرام اور مختلف دینی و ملی تنظیموں اور جماعتوں کی مسلسل فکریں اور محنتوں کا نتیجہ ہے جو پچھلے کئی مہینوں سے مسلسل میدان عمل میں ہیں۔ حالیہ ایک تازہ سروے رپورٹ کے مطابق پچھلے کئی مہینوں سے ان حلقوں نے ووٹ شعور بیداری کے عنوان پر جو ریاست کے مختلف مقامات پر اجلاس منعقد کئے گئے اور ان اکابر بزرگوں کی سرپرستی و نگرانی میں حضرات علماء کرام نے اپنی مساجد کے منبر و محراب سے ووٹ کی اہمیت اور اس کی شرعی حیثیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اس کو ایک دینی ذمہ داری و آخرت میں جوابدہی کے تصور کا جو احساس پیدا کیا گیا ہے ، مسلمانوں اور نوجوانوں میں اس کے اچھے اور مثبت اثرات ظاہر ہوئے جس کا اثر اضلاع میں مسلمانوں کی ایک بڑی و قابل لحاظ تعداد نے ووٹنگ اور رائے دہی کے عمل میں دینی و ملی جذبہ سے سرشار ہوکر حصہ لیا۔ بعض سیاسی مبصرین کا یہ تاثر ہے کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں نے اپنی سیاسی بصیرت و دور اندیشی کے مظاہرہ کے ذریعہ بڑی حد تک جہاں اپنے ووٹوں کو تقسیم سے بچایا ہے وہیں سیاسی حلقوں میں اپنی حیثیت و اہمیت کو بتلاکر اپنے وجود کا بھی احساس دلایا ہے۔ اکابر علماء کرام کی شبانہ روز محنتوں اور دعاء و آہِ سحرگاہی کے علاوہ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا جماعت اسلامی ، تبلیغی جماعت ، اہل سنت الجماعت اور اہل حدیث اور دیگر ملی و فلاحی تنظیموں اور میڈیا کے ذریعہ مسلسل عوام میں بیداری کیلئے اخبار سیاست اور اس کے جواں سال و فعال نیوز ایڈیٹر عامر علی خان اور اضلاع کے سطح پر مختلف مکاتب فکر جماعتوں ، تنظیموں کا اتحاد اور ان سب کی اجتماعی کوششوں و کاوشوں کا ذریعہ ہے ۔ مگر انتخابات اور نتائج کے بعد بھی قوم و ملت کے اجتماعی و ملی مسائل میں ان بزرگوں کی سرپرستی اور اس طرح کا ہمیشہ ملی اتحاد مسلمانوں کے حقوق کے حصول میں معاون و مددگار رہے گا ۔
