فیصلہ میں تاخیر پر سپریم کورٹ کی برہمی، آپ فیصلہ کریں گے یا پھر ہم کریں، جسٹس کرول کا سخت ریمارک
حیدرآباد ۔16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی کے انحراف کے سلسلہ میں شکایتوں پر فیصلہ میں تاخیر پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی کو آخری مہلت کے طورپر دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ جسٹس سنجے کرول اور جسٹس اے جی مسیح پر مبنی بنچ نے ریمارک کیا کہ اگر دو ہفتے میں اسپیکر منحرف ارکان کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتے ہیں تو عدالت اپنے طور پر فیصلہ کرے گی۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی کی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر عدالت نے اسپیکر کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ اندرون دو ہفتے اب تک کی کارروائیوں کے بارے میں اسپیکر کو حلفنامہ پیش کرنا ہوگا۔ سماعت کے دوران اسپیکر کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکلاء ابھیشک منو سنگھوی اور مکل روہتگی نے انحراف سے متعلق شکایتوں کی یکسوئی کیلئے 8 ہفتے کی مہلت طلب کی۔ سپریم کورٹ نے مزید مہلت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ اسپیکر کو پہلے ہی وقت دیا جاچکا ہے۔ ابھیشک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ اسپیکر نے 7 ارکان اسمبلی سے متعلق شکایتوں پر فیصلہ سنادیا ہے۔ باقی تین ارکان اسمبلی کے خلاف شکایتوں کی جانچ کیلئے 8 ہفتے کا وقت چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ اسپیکر کو پہلے ہی کافی وقت دیاجاچکا ہے اور اگر آئندہ دو ہفتے میں فیصلہ نہیں کیا گیا تو پھر سپریم کورٹ اپنے طور پر فیصلہ کرے گی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایک شکایت کے معاملہ میں اسپیکر نے فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ اسپیکر کی آنکھ کا آپریشن ہے ، لہذا وہ شکایتوں پر فوری فیصلہ کرنے کے موقف میں نہیں۔ کارروائی کی تکمیل کیلئے 8 ہفتے کا وقت دیا جائے۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی کے وکیل شیشادری نائیڈو نے مزید مہلت دیئے جانے کی مخالفت کی اور کہا کہ اسپیکر نے عدالت کے احکامات کی تعمیل نہیں کی ہے۔ اسپیکر کو تین ماہ کا وقت دیا جاچکا ہے، لہذا مزید کوئی مہلت نہ دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ دو ہفتے کی مہلت آخری ہوگی اور اسپیکر کو اس دوران فیصلہ کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 17 نومبر 2025 کو اسپیکر کے خلاف توہین عدالت کی نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون تین ماہ انحراف کی شکایتوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بی آر ایس کے قائدین کے ٹی راما راؤ ، کوشک ریڈی اور ویویکانند نے اسپیکر کے فیصلہ میں تاخیر پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اسپیکر کو اب تک کی کارروائیوں کی تفصیلات پیش کرنے کیلئے دو ہفتے کی مہلت دی اور اسی مہلت کے دوران انہیں تمام منحرف ارکان کے خلاف شکایتوںکی یکسوئی کرنی ہوگی۔1