تلنگانہ ہائی کورٹ کی پولیس اور سائبر کرائم کوآرڈیشن سنٹر کو ہدایت
حیدرآباد۔23اکٹوبر(سیاست نیوز) سکندرآباد میں مندر کی مورتی کونقصان پہنچانے کی ویڈیو کو فوری ہٹایا جائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے علاوہ ان یو آر ایل کو بند کیا جائے جہاں یہ ویڈیو موجود ہے۔ جسٹس وجئے سین ریڈی تلنگانہ ہائی کورٹ نے راما راؤ ایمانینی کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران یہ ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و ضبط کی برقراری کے لئے فوری طور پر اس ویڈیو کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کے اقدامات کئے جائیں ۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے سائبر کرائم کو آرڈینیشن سنٹر کے علاوہ انسپکٹر ماریڈ پلی کو جاری کردہ ہدایات میں یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ نقص امن کو پیدا ہونے والے خطرہ کے پیش نظر ان ویڈیوکو فوری طور پر ہٹانے کے اقدامات کئے جائیں۔ درخواست گذار رام موہن ایمانینی نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں کہا کہ سائبر کرائم سنٹر اور متعلقہ پولیس سے متعدد شکایات کے باوجود ان ویڈیو کو ہٹانے کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں جس میں متیالااماں مندر کی مورتی کو نقصان پہنچایا جا رہاہے۔ انہوں نے عدالت میں داخل کی گئی اپنی درخواست میں مذہبی شدت پسندی پر ابھارنے والے گروپس پر بھی انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں متعدد درخواستیں داخل کرچکے ہیں اس کے باوجودسائبر سنٹر اور متعلقہ ایس ایچ او کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے دونوں کو ہی فوری طور پر کاروائی کی ہدایت دی ہے۔ درخواست گذار نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ سائبر دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی ریاست خراساں اور وائس آف خراساں جیسے مواد کو بھی انٹرنیٹ سے ہٹانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ شدت پسندی میں ہونے والے اضافہ کو روکا جاسکے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح کے مواد کی وجہ سے نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کے مختلف مقامات پر مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے۔3