ایودھیا: جیسے ہی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے بعد پہلی بار ووٹ ڈالنے کی تیاری ہوئی ہے شہر کے مسلم ووٹروں کا کہنا ہے کہ مندر۔مسجدان کیلئے مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ روزگار اور ترقی چاہتے ہیں جو اہم مسئلہ ہے۔ اقبال انصاری، جو رام جنم بھومی۔بابری مسجد کیس میں ایک مدعی تھے، بی جے پی کو ایودھیا کی ترقی کا کریڈٹ دیتے ہیں جب کہ دوسروں کا خیال ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کہ فائدہ تمام حصوں تک پہنچ جائے۔ جب الیکشن آتے ہیں تو سیاسی قائدین خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں۔ لیکن لوگ صحت اور تعلیم کی سہولیات اور سیکورٹی چاہتے ہیں۔ انصاری نے میڈیاکو بتایا کہ بی جے پی نے ایودھیا میں اچھا کام کیا ہے اس لیے اسے اس کا کریڈٹ ملنا چاہیے۔ اگرچہ مجھے انتخابات میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن میں پولنگ کے دن اپنا ووٹ ضرور ڈالوں گا۔انصاری نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنان ان کا ووٹ مانگنے کے لیے ان کے گھر آ رہے ہیں۔اشفاق حسین، ایک بلڈر اور بی جے پی سے منسلک سرکاری ٹھیکیدار نے زور دے کر کہا کہ مسلم خواتین پارٹی کے ساتھ ہیں۔ بی جے پی کے تئیں ان کا ردعمل تین طلاق اور ریاست میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے مثبت رہا ہے۔ فیض آباد لوک سبھا سیٹ کے روڈولی اسمبلی حلقہ میں مسلمانوں کی ایک قابل ذکر تعداد کو پی ایم آواس یوجنا کے تحت مکانات ملے ہیں۔ ایک مقامی باشندے ببلو خان کا خیال ہے کہ ایودھیا میں ترقی کا دھارا بہتا ہے۔موجودہ لوک سبھا الیکشن میں تمام جماعتوں کی جانب سے رائے دہندوں کو راغب کرنے کی بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں۔