میدک، 28 جنوری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ کانگریس امور کی انچارج میناکشی نٹراجن نے کہا ہے کہ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت قانون کا نام تبدیل کرنا دراصل غریب عوام کے مفادات پر کاری ضرب ہے اور اس اقدام سے دیہی مزدوروں اور کمزور طبقات کے حقوق متاثر ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یو پی اے دور حکومت میں سنہ 2005 میں غریب عوام کی بھوک مٹانے اور دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانے کے مقصد سے یہ تاریخی قانون نافذ کیا گیا تھا، جسے اب تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بدھ کے روز منڈل چنّا شنکرام پیٹ کے موضع کوروی پلی میں روزگار ضمانت اسکیم کا نام تبدیل کیے جانے کے خلاف احتجاجی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں میناکشی نٹراجن نے بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ، ضلع صدر انجنیلولو گوڑ، میدک کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مائنم پلی روہت راو اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اسکیم کا نام ’وکست بھارت – گیارنٹی فار روزگار اینڈ اجیویکا مشن (گرامین)‘ یعنی وی بی-جی رام جی رکھنا قابل مذمت ہے اور جب تک اس قانون کو واپس نہیں لیا جاتا کانگریس جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت اس قانون کو غیر مؤثر بنانے کی سازش کررہی ہے اور فنڈس میں کمی کے ذریعہ ریاستوں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے، جہاں پہلے مرکز 90 فیصد اور ریاست 10 فیصد حصہ ادا کرتی تھی وہیں مجوزہ بل میں مرکز کا حصہ گھٹا کر 60 فیصد اور ریاستوں کا حصہ 40 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو ناانصافی ہے اور ریاستوں کی مالی حالت پر منفی اثر ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایس سی، ایس ٹی اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30 کروڑ سے زائد غریب عوام اس قانون سے مستفید ہورہے ہیں اور اس کی روح اور نفاذ کے طریقہ کار میں تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روزگار کے دنوں کو 200 تک بڑھایا جائے، یومیہ مزدوری 307 روپئے سے بڑھا کر 600 روپئے کی جائے اور اسکیم کو مکمل فنڈس کے ساتھ مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔