منریگا کے نام کی تبدیلی سے وفاقیت کا نقصان

   

Ferty9 Clinic

رام پنیانی

تاریخی بابری مسجد کو رام مندر قرار دیتے ہوئے اور مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کیلئے بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی نے رتھ یاترا نکالی اور رتھ یاترا کے ساتھ ہی بی جے پی کا عروج شروع ہوگیا اس نے خود کے ایک مختلف قسم کی پارٹی ہونے کا دعویٰ کیا۔ بہرحال بی جے پی کی انتخابی کامیابیاں جب بڑھنے لگی کئی مفکرین و دانشوروں اور ادیبوں نے زیادہ فکرمندی کا اظہار نہیں کیا ۔ ایک طرف بی جے پی تھی ، دوسری طرف حکمراں کانگریس تھی لیکن بی جے پی نے اس وقت اپنا اصلی رنگ دکھانا شروع کیا جب وہ قومی جمہوری اتحاد NDA کی ایک بڑی پارٹی (شراکت دار) بن گئی اور اس دور میں واجپائی کو این ڈی اے کا اہم لیڈر بنایا گیا ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ واجپائی کی قیادت میں با الفاظ دیگر ان کے عہدہ وزارت عظمیٰ میں این ڈی اے نے 6 برسوں تک حکمرانی کی، اس سے قبل دو مرتبہ بی جے پی مختصر سے عرصہ کیلئے اقتدار میں رہی ، ایک مرتبہ 13 دن کیلئے اس کا اقتدار رہا اور دوسری مرتبہ 13 ماہ تک اسے حکومت کرنے کا موقع ملا ۔ ویسے بھی اس دور میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا ماحول نہیں تھا ۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ یو پی اے I میں ایسے بے شمار اسکیمات شروع کی گئیں جو حقوق ، حق معلومات ، صحت ، غذا ، تعلیم اور جمہوریت کے نظریات و تصور پر مبنی تھا ، اس دور کو ہندوستان کی جمہوریت کے استحکام اور غریب شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا دور قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا ۔ اس وقت خاص طور پر غریب ہندوستانی شہریوں کے حقوق کو خاص اہمیت دی گئی اور جو سماجی تحریکیں شروع کی گئیں۔ وہ حکومت پر اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مناسب دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہی کہ وہ نہ صرف اپنی دستوری ذ مہ داریاں پوری کرے بلکہ تصور حقوق پر مبنی اسکیمات بھی شروع کرے۔ ساتھ ہی محروم طبقات کو بااختیار بنانے کو بھی یقینی بنائیں گے۔ ہم اگر آج کی یعنی موجودہ صورتحال پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ نریندر مودی کے بحیثیت وزیراعظم تیسری میعاد شروع ہونے کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ سیاست کے ایجنڈہ کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ مودی کی اس میعاد میں ہندو شناخت کے اطراف قوم پرستی کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے ۔ ہندوتوا کو ہی قوم پرستی کہا جارہا ہے اور مرکزی حکومت کی تمام تر توجہ با الفاظ دیگر اقتدار کی تمام تر توجہ اس رجحان پر مرکوز ہے ۔ نتیجہ میں وفاقی ریاست اور ہندوستانی ریاستوں کی ایک یونین ہے، جیسا تصور خطرہ میں پڑگیا ہے ۔ موجودہ حکومت میں حقوق پر مبنی اسکیمات خطرہ میں پڑگئی ہیں اور ایسی اسکیمات کو اہمیت و ترجیح دی جارہی ہے جو حکمراں طبقہ اس کی سرپرست تنظیم اور اس کے قبیل کی جماعتوں ، اداروں یا تنظیموں کے نظریات و تصورات کے عین مطابق ہو، ہم یہاں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسی اسکیمات کو اہمیت دی جارہی ہیں جو عوام کے لئے نہیں بلکہ حکمراں طبقہ اور اس کے حامیوں کے لئے فائدہ مند ہیں ۔ ویسے بھی صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانوں کے خلاف ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ا یس عوام کے محروم طبقات اور مزدور و محنت کش طبقات کے مخالف ہیں جن میں دلت ، مزدور ، قبائلی (آدی واسی) اور خاص طور پر خواتین شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ہم مودی حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے ان زرعی قوانین کو بھی دیکھا جن کے خلاف کسانوں نے زبردست احتجاج کیا۔ حکومت نے کسانوں کے احتجاج اور شدید مخالفت کے باوجود اسے متعارف و منظور کروایا ۔ یہ اور بات ہے کہ بے شمار کسانوں کی قربانیوں کے بعد ان بلز کو واپس لینے کا اعلان کیا گیا ۔ ان قوانین کی متوفی سے قبل 600-720 کسانوں کو اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ ہم نے حال ہی میں ایسے Labour Codes کو بھی دیکھا جو مزدور طبقہ کی خون پسینہ کی کمائی کو ہتیالے گا اور اب بھی ہم کھیت مزدوروں کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ اس کی وجہ سارا ہندوستان جانتا ہے ، مودی حکومت مہاتما گاندھی سے موسوم MGNREGA اسکیم کو منسوخ کر رہی ہے اور اس کی جگہ VBG-RAM-G کو لایا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت جان بوجھ کر مہاتما گاندھی رورل ایمپلائمنٹ ایکٹ (MGNREGA) کو منسوخ کر رہی ہے اور اس کی جگہ گیارنٹی فار روزگار اینڈ اجی ریگا مشن (گرامین) بل 2025 (VB-G-RAM-G) لارہی ہے جو انگریزی اور ہندی / اردو کا اچھا مرکب ہے جس کے ذریعہ اس اسکیم کو Ram کا نام دیا گیا ہے اور بھگوان رام بی جے پی کی سیاست کے اطراف و اکناف رہنے والی ایک اہم شناخت ہے جس کیلئے بی جے پی اپنی تخریبی سیاست کو فروغ دے رہی ہے ۔ نئے بل کے جو مقاصد بتائے گئے ہیں ، ان میں دیہاتوں میں مزدوروں کو 100 دن کا کام دینے کی بجائے 125 دن کام دینا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے یہ تاثر جائے گا کہ موجودہ 100 دن کام بڑھ کر 125 دن کام کے ہوجائیں گے ، ویسے بھی MNREGA بیروزگار شہریوں کے مطالبہ پر مبنی ہے ، MGNREGA سنگھرش مورچہ کے مطابق MGNREGA نے ایک ایسا قانون حق محنت کشوں کو دیا تھا جو یقیناً روزگار فراہم کرنے کے مطالبہ پر مبنی تھا اور محنت کشوں کا وہ مطالبہ ایک عالمی مطالبہ تھا یعنی کسی دیہی علاقہ میں کوئی بھی مہارت کے بغیر Manual work کرنے کا خواہاں ہو تو اپنے کام فراہم کرنا ضروری ہے لیکن VB-G RAM-G Bill کے سیکشن (1) 5 کے مطابق ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹیفائیڈ کردہ دیہی علاقوں میں ہر گھر کے ایک بالغ مرد/ خاتون والینٹر کو Manual work دینا ہوگا ۔ موجودہ حالات میں ہم کہہ سکتے ہیں ، بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے یعنی اپنا اصل رنگ دکھادیا ہے ۔ با الفاظ دیگر مرکزی حکومت جو چاہے کرسکتی ہے اور اس نے MGNREGA اسکیم کا نام تبدیل کر کے اس ا سکیم کی عالمی نوعیت کو کم کردیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ MGNREGA کے 90 فیصد فنڈس مرکزی حکومت سے آتے ہیں جبکہ G-Ram-G اکثر ریاستوں میں مرکزی حکومت صرف 60 فیصد فنڈس فراہم کرے گی اور مابقی 40 فیصد فنڈ ریاستی حکومتوں کی طرف سے آئے گا جو پہلے ہی فنڈس کی قلت کا شکار ہے جس کے نتیجہ میں ریاستی حکومتیں دیہی علاقوں میں بیروزگار اور ضرورت مندوں کے نام روزگار کی فراہمی کے ضمن میں ناموں کا اندراج نہیں کرسکتی۔ اس ضمن میں ہم آپ کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ گرام سبھائیں مقامی سطح پر منصوبہ بنایا کرتی تھیں اس کے برعکس G-RAM-G میں اس دفعہ کو پوری طرح الٹ دیا گیا اور وہ بھی دفعہ 1 کے ذریعہ شق 6(4) پہ کہتی ہے کہ دکھشٹ بھارت نیشنل رورل انفراسٹرکچر کو ریاستوں اضلاع اور پنچایت راج اداروں کی ترجیحی انفراسٹرکچر کے درمیان پائی جانے والی چیلنج کی نشاندہی میں رہنمائی کرنی چاہئے ۔ اس طرح اسے کام کے معیار کو بہتر بنانے اور عوامی سرمایوں کے صحیح استعمال کو یقینی بنانے کے معاملہ میں بھی رہنمائی کرنی ہوگی تاکہ گرام پنچایت اور بلاک کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر بہتر نتائج برآمد ہوسکیں۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ پنچایت راج کے نظریہ کو بھی خطرہ میں ڈالتا ہے ۔ ایک اور بات اہم یہ ہے کہ اس اسکیم سے گاندھی کا نام حذف کر کے RAM جوڑ دیا گیا ہے اور اس کے لئے بڑی مکاری کے ساتھ لسانی کرتب بازی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ یہ ہندو قوم پرستی کی آئیڈیالوجی ہے جو معاشرہ میں نفرت پھیلاتی ہے جس کے نتیجہ میں بقول سردار پٹیل کے ہم بابائے قوم سے محروم ہوگئے۔ گاندھی وہ آفاقی شخصیت ہیں انہیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی مقبولیت کی وجہ سے ہی انہیں سوچھ بھارت ابھیان کا سفیر بنایا گیا جبکہ روزگار کی اس اسکیم سے ان کا نام حذف کردیا گیا ۔ دراصل یہ بی جے پی کی جانب سے اس بات کا سیاسی اشارہ ہے کہ وہ گاندھی نہیں جن کی آئیڈیالوجی ہم نہیں مانتے۔ بہرحال MGNREGA کے نام کی تبدیلی نہ صرف گاندھی جی کے نظریات سے دوری ہے بلکہ اس سے وفاقیت اور حقوق کے تصور کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی زیر قیادت حکومت کو کمزور طبقات کی کوئی پرواہ نہیں۔