منریگا کے نام کی تبدیلی مہاتما گاندھی کا دوسرا قتل

   

Ferty9 Clinic

پی چدمبرم، سابق مرکزی وزیر داخلہ

بابائے قوم مہاتما گاندھی کا قتل 30 جنوری 1948 ء کو کیا گیا ۔ ناتھورام گوڈسے نے اُنھیں گولیاں ماردیں اور وہ امر ہوگئے ۔ اگرچہ گاندھی کے قاتل کا آر ایس ایس سے تعلق رہا اور سارے ملک نے یہی کہاکہ آر ایس ایس کے پروپگنڈہ اور اُس کے نظریات سے متاثر ہوکر گوڈسے نے گاندھی جی کا قتل کیا لیکن آر ایس ایس نے پرزور انداز میں ان الزامات کی تردید کی کہ گاندھی جی کے قاتل کا اُس سے یا اُس کے نظریات سے کوئی تعلق ہے۔ آر ایس ایس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے گاندھی کے قتل کے بعد تنظیم پر جو پابندی عائد کی وہ غیرمنصفانہ تھی ۔
چلئے آئیے ! ایک لمحہ کیلئے آر ایس ایس کے دعویٰ کو درست مان لیتے ہیں اور سنگھ پریوار کی سرپرست تنظیم ( آر ایس ایس ) اور بی جے پی سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آپ لوگوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا نام اپنی طرز کے اس واحد اور وہ بھی سماجی و معاشی اسکیم سے کیوں ہٹادیا جو اُن سے منسوب تھی ۔
کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت میں شروع کردہ اس اسکیم کانام این ڈی اے حکومت نے Vikshit G-RAM-G Bharat رکھا ہے اور اس ضمن میں اس نے پارلیمنٹ میں بل 197 سال 2025 ء منظور کیا ۔ اس بل کا مقصد یو پی اے کے دورِ اقتدار میں منظورہ (MGNREGS) کو منسوخ کرنا تھا ۔ اس بل کے سیکشن 37(1) کچھ یوں کہتا ہے: ’’بل 197 کی دفعہ 10 میں فراہم کردہ شرائط کے مطابق اور اس تاریخ سے جس کا تعین مرکزی حکومت بذریعہ اعلامیہ کرے گی اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی ایکٹ 2005 اپنے تمام اُصول و قواعد اعلامیے اسکیموں ، احکامات اور ہدایات سمیت منسوخ تصور کیا جائے گا ‘‘ ۔
یہ بل مزید آگے بڑھتے ہوئے دفعہ (1)8 کے تحت ریاستی حکومتوں کو اس بات کا پابند کرتا ہے وہ دیہی علاقوں کے ہر گھرانے ایک مالی سال میں 125 دن کی بااجرت روزگار فراہم کرنے کی طمانیت فراہم کرنے کیلئے ایک اسکیم بنائے ۔ یہ اگر اس نام پر غور کریں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نام نہ صرف طویل ہے بلکہ بہت بھاری بھرکم بھی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیرہندی داں شہریوں کیلئے بے معنی بھی ہے اور غیرہندی داں شہریوں کی توہین کے مترادف ہے ۔
غریبوں کیلئے خطِ زندگی : آپ کو بتادیں کہ 2005 ء میں یو پی اے دور میں دیہی علاقوں کے رہنے والے غریبوں کی زندگی بہتر بنانے کی خاطر MGNREGS قانون بنایا گیا تھا اور سال میں سو دن کا کام دیا جارہا تھا اور وہ اسکیم 12 کروڑ غریب خاندانوں کیلئے ایک خطِ زندگی Life Line ثابت ہوئی ۔ اس اسکیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی گھرانہ بھوکا نہ سوئے اور مایوس نہ ہو ۔ منریگا اسکیم غریبوں بالخصوص خواتین اور بزرگوں کیلئے ایک نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوئی جس نے باقاعدہ روزگار یاملازمت سے محروم خواتین اور بزرگوں کیلئے بہت مددگار ثابت ہوئی ۔ یہ اسکیم گھر گھر میں روزگار و ملازمتوں سے محروم خواتین کے ہاتھوں میں پیسہ لائی اُنھیں بے فکری عطا کی اور اُنھیں ایک ایسے تجربہ سے ہمکنار ہونے کا موقع ملا جو اُن کی ماؤں بہنوں اور دوسری رشتہ دارو خواتین کو میسر نہیں تھا۔
منریگا اسکیم نے غریبوں کیلئے تحفظ یا سکیورٹی کاماحول پیدا کیا لیکن افسوس بی جے پی حکومت نے جو بل لایا ہے مذکورہ تمام فوائد بڑے ظالمانہ انداز میں چھین لئے ہیں ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہوگا کہ یوپی اے حکومت کے پہلے بجٹ (2004-05) میں راقم الحروف نے کہاتھا کہ ہماری حکمت عملی میں سارے منصوبہ جاتی فنڈس پر پہلا حق غریبوں کا ہوگا ، نیشنل ایمپلائمنٹ گیارنٹی ایکٹ کے تحت کام کا آغاز ہوچکا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ہر غریب گھرانے کے ایک شخص ( مرد یا عورت ) کو سال میں 100 دن روزگار فراہم کیاجائے گا ، اس بل یا قانون کی روح طمانیت شدہ ذریعہ معاش کاتحفظ تھی اور اس کی اہم خصوصیات یہ تھی : * یہ اسکیم آفاقی تھی ، طلب پر مبنی تھی ، ساتھ ہی سال بھر دستیاب تھی ۔ * مرکزی حکومت نے اُجرتوں کی طمانیت دی تھی ۔ * اس اسکیم کیلئے مرکزی حکومت نے مالیہ فراہم کیا جبکہ اس میں ریاست کا حصہ 25 فیصد تھا اور وہ بھی صرف مادی لاگت کا 25 فیصد ۔ * مثال کے طورپر اگر کسی کو کام دینے سے انکار کیا جاتا تو وہ بیروزگاری الاؤنس کا حقدار ہوتا تھا ۔ * وقت کے ساتھ یہ اسکیم خواتین اور مزدوروں کے حق میں یا اُن کے موافق بنتی چلی گئی ۔
منریگا کی روح کی نفی : اگر دیکھا جائے تو اس بل اور اسکیم نے منریگا کے مذکورہ بالا تمام فوائد کو تباہ کرکے رکھدیا ۔ اب اس اسکیم کو پوری طرح ریاستوں سے جوڑ دیا گیا جس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُجرت کیلئے جو رقم دیہی علاقوں میں بیروزگار مرد و خواتین کو دی جائے گی اُس میں مرکز اور ریاستوں کا حصہ 60:40 ہوگا یعنی مرکزی حکومت 60 فیصد اور ریاستی حکومتیں 40 فیصد حصہ ادا کریں گی ۔ مرکزی حکومت پر ریاست کیلئے Normative Funds مختص کرے گی اور جو اضافی اخراجات ہوں گے یعنی مرکز کی جانب سے مختص کردہ فنڈز سے زیادہ جو اخراجات ہوں گے وہ ریاستیں ادا کریں گی جبکہ اسکیم جن علاقہ میں عمل آوری ہوگی اس بارے میں مرکزی حکومتیں نوٹیفائی کرے گی ۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس اسکیم میں ریاستی حکومتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی اور تمام معاملات میں مرکزی حکومت فیصلہ کن اتھارٹی ہوگی جس کے نتیجہ میں یہ بل پوری طرح ملک کے وفاقی ڈھانچہ کے خلاف ہوجاتا ہے۔ عملی طورپر دیکھا جائے تو یہ بل اور اسکیم روزگار کی طمانیت کے حقیقی تصور کو اُلٹ کر رکھدیتا ہے۔ خاص طورپر بی جے پی زیراقتدار ریاستیں معاشی کمزوری کا بہانہ بناکر کم معیاری فنڈز اور نفاذ کے چھوٹے چھوٹے علاقوں کا مطالبہ کریں گی اور اس طرح آہستہ آہستہ اس اسکیم کو ختم کردیں گے ۔
یادوں سے حذف کرنا : 28 فبروری 2015 ء کو مسٹر نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں کہا تھاکہ میرا سیاسی فہم مجھے کبھی بھی منریگا جیسی اسکیم کو ختم کرنے کا مشورہ نہیں دیتا اور یہ یوپی اے کی ناکامیوں کی زندہ یادگار ہے ۔
برسوں کے دوران منریگا کو نظرانداز کیا گیا ۔ اگرچہ اس اسکیم کے ذریعہ 100 دن کا کام دیئے جانے کا وعدہ کیا گیاتھا لیکن ہر گھر کو اوسط 50 دن کام دیا گیا ۔ 8.61 کروڑ جاب کارڈس ہولڈرس میں سے صرف 40.75 لاکھ گھرانوں کو 2024-25 ء میں 100 دن کام دیا گیا اور 2025-26 ء میں یہ تعداد 6.74 رہی اوربیروزگاری الاؤنس جس کی فراہمی ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ شاذ و نادر ہی ادا کی گئی جو رقومات مختص کی گئیں وہ ناکافی ہیں اور BEمیں 2020-21 میں 1,11,170 سے گرکر 2025-26 میں 86 ہزار کروڑ ہوگئی اور جن جملہ گھرانوں کو کام دیا گیا وہ 202-21 ء میں 7.55 کروڑ ، صرف گراوٹ کا شکار بن کر 2024-25 ء میں 4.71 کروڑ ہوگی جبکہ غیراداشدہ اُجرتوں کے بقایہ جات 14300 کروڑ روپئے ہے ۔ بہرحال یہ بل قوم کے اذہان و قلوب سے گاندھی جی کومٹانے کی ایک سازش ایک دانستہ کوشش ہے ۔