خواتین پر مظالم میں اضافے پر احتجاج، سکیوریٹی اسٹاف کوارٹرس میں داخلے سے روکنے میں ناکام
حیدرآباد۔ پولیس نے منسٹر کوارٹرس بنجارہ ہلز میں داخل ہوکر وزیر داخلہ محمود علی کی قیام گاہ کا گھیرائو کرنے والے کانگریس قائدین اور کارکنوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں دے کر چرلہ پلی جیل منتقل کردیا گیا ہے ۔ اے آئی سی سی سکریٹری سمپت کمار کی قیادت میں صدر یوتھ کانگریس انل کمار یادو، پی سی سی ایس سی سل کے صدرنشین پریتم، پی سی سی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل، این ایس یو آئی کے صدر بی وینکٹ کے بشمول تقریباً 60 کانگریس کارکنوں کے خلاف 8 مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے اور انہیں عدالتی تحویل میں دینے سے قبل گوشہ محل اسٹیڈیم میں کورونا ٹسٹ کا اہتمام کیا گیا۔ تمام گرفتار شدگان کو جج کے روبرو پیش کیا گیا۔ قبل ازیں کانگریس قائدین نے ریاست میں خواتین پر مظالم میں اضافے کے خلاف منسٹر کوارٹرس میں احتجاج کیا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی سیاسی پارٹی کے احتجاجی قائدین اور کارکن منسٹر کوارٹرس کے اندر داخل ہوگئے۔ اچانک احتجاج کے نتیجہ میں مین گیٹ پر موجود سکیوریٹی ملازمین احتجاجیوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ حکومت اور وزیر داخلہ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے احتجاجی ان کی قیام گاہ پہنچ گئے اور گیٹ کے باہر دھرنا منظم کیا۔ حکومت اور وزیر داخلہ کے خلاف نعرے اور استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کارکن منسٹر کوارٹرس میں پہنچ گئے جس کے نتیجہ میں وہاں موجود وزراء کے سکیوریٹی اسٹاف نے چوکسی اختیار کرلی۔ پولیس کے اعلی عہدیداروں نے سکیوریٹی کی ناکامی کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ کانگریس قائدین نے الزام عائد کیا کہ معین آباد اقلیتی طبقے کی کمسن لڑکی اور کھمم میں دلت لڑکی پر مظالم کے معاملے میں حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اے آئی سی سی سکریٹری سمپت کمار سے وزیر داخلہ محمود علی نے فون پر بات کی اور تیقن دیا کہ حکومت دونوں واقعات میں خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا مشورہ دیا لیکن کانگریس کارکن مسلسل نعرے بازی کرتے رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے کر گوشہ محل اسٹیڈیم منتقل کردیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمپت کمار نے کہا کہ تلنگانہ میں اترپردیش جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ امن و ضبط کی صورتحال ابتر ہے اور خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ معین آباد میں ٹی آر ایس لیڈر کی جانب سے اقلیتی طبقے کی کمسن لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ پیش آیا لیکن پولیس نے کمزور مقدمہ درج کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو حکومت کی جانب سے امداد کی عدم فراہمی پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت کے کسی نمائندے نے متاثرہ خاندان سے ملاقات نہیں کی۔ اسی طرح کھمم کی متاثرہ لڑکی کا عثمانیہ ہاسپٹل کے بجائے کسی کارپوریٹ ہاسپٹل میں علاج کیا جائے۔