حیدرآباد۔20۔ستمبر۔(سیاست نیوز) حیدرآباد کو منشیات سے پاک بنانے کے نام پر چلائی جانے والی شعور بیداری مہم کے علاوہ پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں کی تلاشی کے ذریعہ یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ پرانے شہر میں منشیات کے عادی نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہر کے پاش علاقوں کی آبادیاں منشیات کی لعنت کا شکار ہیں اور منشیات کے عادی نوجوانوں کو اس بات کا پتہ ہے کہ منشیات کے حصول کے لئے کن علاقوں کا رخ کرنا چاہئے ۔ پولیس حکام کی جانب سے منشیات کے متعلق شعور بیداری کے نام پر راہ چلتے نوجوانوں کو پوسٹرس اور پیانر تھماتے ہوئے انہیں سڑکوں کے کنارے کھڑا کیا جانا اور ان کی تصویر کشی کرنے سے منشیات کے خاتمہ کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا بلکہ منشیات کی فروخت میں ملوث ان لوگوں کو حراست میں لیا جانا ضروری ہے جو شہر حیدرآباد میں نوجوانوں کو اس لعنت کا شکار بنا رہے ہیں اور نوجوان نسل میں گانجہ کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔شہر کے پاش علاقوں میں جہاں منشیات کی فروخت عمل میں لائی جا رہی ہے اس کے متعلق نہ صرف منشیات کے عادی نوجوانوں کو واقفیت ہے بلکہ ان علاقوں کے عوام بھی جانتے ہیں کہ کہاں منشیات کی فروخت ہورہی ہے اور منشیات کے عادی نوجوان کن مقامات سے ڈرگس خرید رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے پرانے شہر کے علاقوں میں تلاشی مہم اور شعور بیداری کے نام پر کئے جانے والے پروگرامس دراصل شہر کے اس حصہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں گوا کے علاوہ ممبئی ‘ وشاکھا پٹنم اور بنگلوروسے مختلف اقسام کے ڈرگس برآمد کرتے ہوئے فروخت کئے جا رہے ہیں اور شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان دوستوں کے گروپس میں گوا کے علاوہ ممبئی اور شہروں میں ایسے مقامات پر تفریح کے لئے جا رہے ہیں جہاں بہ آسانی انہیں استعمال کے لئے ڈرگس مل جاتے ہیں۔ بنجارہ ہلز کے علاقہ میں رات دیر گئے پارٹیوں میں سرکردہ افراد کی موجودگی میں جاری منشیات کے استعمال کا بھانڈہ پھوٹنے کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ شہر ی پولیس انتظامیہ منشیات کے کاروبار کو روکنے میں بری طرح سے ناکام ہے بلکہ بعض گوشوں کی جانب سے محکمہ پولیس پر الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد کی اہم ہوٹلوں اور پبس میں منشیات کے کاروبار کے سلسلہ میں روزنامہ سیاست کی جانب سے مسلسل توجہ دہانی کروائی جاتی رہی ہے کہ شہر کے متمول طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے رجحان میں اضافہ کے لئے پب کلچر ذمہ دار بنتا جا رہاہے کہ کیونکہ ان پبس میں منشیات کی فروخت کرنے والے سرگرم ہیں اور انتظامیہ سے معاملت کے بعد ہی منشیات کی فروخت ان مقامات پر ہورہی ہے۔ منشیات کے عادی نوجوان انہیں جس شئے کی ضرورت ہے وہ کس پب میں دستیاب ہے وہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور حاصل کر لیتے ہیں توپولیس اس بات کا پتہ لگانے کے کیوں قاصر ہے !اور کیوںپرانے شہر کے نوجوانوں کے جیبوں میں گانجہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے!اس کے علاوہ شہر کے بدنام زمانہ علاقہ منگل ہاٹ اور اس علاقہ کی گلیوں میں گانجہ کی فروخت عام بات ہے اور حالیہ عرصہ میں پولیس نے ایک جوڑے کو گرفتار بھی کیا ہے۔ م