نئی دہلی : ڈھابوں اور تجارتی یونٹوں میں کام کرنے والے 14 بچہ مزدوروں کو نوبل امن انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کی تنظیم ’بچپن بچاو آندولن ‘کی اطلاع پرایس ڈی ایم، دہلی کینٹ کی قیادت میں نارائنا پولیس کے ایک منظم چھاپے میں آزاد کرایا گیا۔ ان اداروں کے خلاف نارائنا پولس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جو بچوں سے مزدوری کراتے ہیں۔بچپن بچاو آندولن کے ڈائریکٹر منیش شرما نے کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود معاشرے میں بچوں کی اسمگلنگ اور چائلڈ لیبر کو روکا نہیں جا سکا، بچہ مزدوری اور استحصال سے نجات کے لیے وضع کردہ سخت قوانین کے باوجود نابالغ افراد سے کام کرانے اور ان کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے ، جو انتہائی تشویشناک ہے ۔اس کارروائی میں بچپن بچاوآندولن کی ایسوسی ایٹ تنظیم چائلڈ ڈیولپمنٹ سیکشن اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران بھی شامل تھے ۔ ان بچوں کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے انہیں مکتی آشرم بھیج دیا گیا۔ ان تمام بچے مزدوروں کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان ہیں اور یہ بہار، اترپردیش اور جھارکھنڈ کے رہائشی ہیں۔ چھاپوں کے بعد ایس ڈی ایم نے نو ڈھابوں اور فیکٹریوں کو سیل کر دیا۔ ان تمام کے خلاف جوینائل جسٹس ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ان بچہ مزدوروں کی حالت انتہائی قابل رحم تھی۔ ان 14 بچہ مزدوروں میں سے 4 کی آنکھیں خراب تھیں اور ایک بچہ مزدور کی ایک آنکھ غائب تھی۔ کئی بچہ مزدوروں کے ہاتھوں اور جسم کے دیگر حصوں پر جلنے کے نشانات تھے ۔