منوگوڑ میں 91% سے زائد پولنگ ، مجموعی رائے دہی پرامن

   


ٹی آر ایس اور بی جے پی کارکنوں میں جھڑپ، پولیس کا لاٹھی چارج، وعدے کی عدم تکمیل پر عوام میں برہمی

نلگنڈہ: 3 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) متحدہ ضلع نلگنڈہ کے منوگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چنائو میں ہوئے رائے دہی بحیثیت مجموعی پر امن رہی۔ رٹرننگ آفیسر کے بموجب ضمنی چنائو میں شام 5 بجے تک 77.55 فیصد درج ہوئی ہے۔ حلقہ اسمبلی کے 7 منڈلوں میں تین چار مقامات پر بی جے پی اور ٹی آر ایس کارکنوں کے درمیان میں معمولی جھڑپ ہونے پر پولیس نے لاٹھی چارج کے ذریعہ برہم کارکنوں کو منتشر کردیا۔ آج صبح رائے دہی کا آغاز صبح 7 بجے سے ہوا۔ ابتدائی موقع پر رائے دہی سست رہی لیکن ایک گھنٹے کے بعد رائے دہی میں تیزی پیدا ہوگئی۔ رائے دہی کے اختتام سے قبل رائے دہندوں کی کثیر تعداد مراکز پر بڑی تعداد میں پہنچے۔ عہعیداروں نے بتایا کہ مقررہ وقت سے قبل مرکز پر پہنچے۔ تمام افراد کو اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کروایا جائے گا۔ حلقہ میں جملہ 2.41 لاکھ رائے دہندگان میں 187527 افراد نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ صبح رائے دہی کے آغاز کے بعد مری گوڑہ منڈل مستقر پر دیگر مقامات کے قائدین نے یہاں پر مقیم ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا۔ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس نے لاٹھیوں سے کام کرتے ہوئے برہم ٹی آر ایس اور بی جے پی کراکنوں کو منتشر کردیا۔ مری گورہ منڈل کے موضع اتم پیٹ میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیسوں کی تقسیم کرنے کے دعوے کئے۔ عوام کو پیسے نہ ملنے پر برہم دیہی عوام نے اپنے حق کا بائیکاٹ کیا۔ بعدازاں عہدیداروں نے عوام کو سمجھاکر اپنے حق سے استفادہ کروایا۔ چندرم منڈل مستقر کے ایک مرکز پر ٹی آر ایس امیدوار پہنچ کر معلومات حاصل کررہے تھے کہ بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی جس پر ٹی آر ایس کارکن نے بھی جوابی نعرے بلند کئے۔ حالات قابو سے باہر ہوتا دکھاکر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ نارائن پور منڈل میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان نعرے بلند ہوئے اور تصادم ہونے کے خدشہ پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے منتشر کردیا۔ کانگریس امیدوار پی سردانتی، ٹی آر ایس امیدوار کے پربھاکر ریڈی، بی جے پی امیدوار کے راج گوپال ریڈی نے اپنی حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ پولنگ کا عمل رات 7 بجے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔