منگلورو میں مخالف سی اے اے احتجاج میں پولیس فائرنگ کی تحقیقات

   

تشدد اور دو افراد کی ہلاکتوں پر بشمول سٹی کمشنر 176 پولیس اہلکاروں کو نوٹس جاری، 203 عام شہریوں کے بیانات قلمبند
منگلورو۔ 21 فروری (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے علاقہ منگلورو میں 19 دسمبر 2019ء کو نعقدہ مخالف سی اے اے ریالی کے دوران پولیس فائرنگ میں دو احتجاجیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے مجسٹریٹ کے پیانل پر منگلور سٹی پولیس کمشنر کے بشمول متعدد پولیس عہدیداروں کو طلب کیا جائے گا۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے پیانل کی طرف سے 176 افسران پولیس کو اجلاس پر طلبی کے لیے نوٹسیں جاری کی جائیں گی۔ اڈوپی کے ڈپکٹی کمشنر جی جگدیشا نے جو یہ تحقیقات کررہے ہیں یہ اعلان کیا۔ جگدیشا نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منگلورو کے پولیس کمشنر ہرشا کے نام بھی سمن جاری کیا جائے گا۔ سی اے اے کے خلاف منگلور میں منعقدہ ریالی میں تشدد کے بعد کی گئی پولیس فائرنگ میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ منگلورو (نارتھ) کے اسسٹنٹ کمشنر کے یو بلیپا نے جو محکمہ پولیس کے لیے نوڈل آفیسر ہیں، 176 پولیس اہلکاروں کی فہرست دی ہے جو ثبوت فراہم کرنے تیار ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو مرحلہ وار اساس پر طلب کیا جائے گا۔ آئندہ سماعت 25 فروری کو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں شامل 203 افراد تاحال اس واقعہ پر بیان دے چکے ہیں۔ منگلورو کے سابق میئر کے اشرف بغرض علاج دواخانہ میں شریک ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا تحریری بیان دیا ہے۔ ماباقی افراد آئندہ سماعت کے دوران ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ واصح رہے کہ 19 دسمبر کو یہاں منعقدہ مخالف سی اے اے انچارج پر تشدد موثر اختیار کرگیا تھا اور پولیس فائرنگ میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے کہا تھا کہ احتجاجیوں نے منلگورو (نارتھ) پولیس اسٹیشن کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس فائرنگ کی گئی تھی۔اس فائرنگ میں دو افراد گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے جو دواخانہ میں علاج کے دوران جانبر نہ ہوسکے۔