منھ میں رام بغل میں چھری رکھنے والی جماعت کا نام بی جے پی : مہیش کمار گوڑ

   

مذہب، نفرت اور سیاسی جماعتوں کو توڑتے ہوئے جمہوریت اور دستور کا مذاق اڑایا جارہا ہے
حیدرآباد ۔ 20 جون (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر جمہوریت اور دستور کو پامال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی کو بھگوان کا نام اور مذہب کا سہارا لیئے بغیر کامیاب ہوکر دکھانے کا چیلنج کیا۔ آج گاندھی بھون میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کردینے کے خلاف ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ ستیہ گرہ کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر پی سی سی نے بی جے پی کی عوام دشمن پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مہیش کمار گوڑ نے میناکشی نٹراجن کے پرچہ نامزدگی مسترد کئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس ریٹرننگ آفیسر نے جان بوجھ کر پرچہ نامزدگی کو مسترد کیا ہے، اسے پھانسی کی سزا دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ وزیراعظم نریندر مودی کے اشارے اور سیاسی ہتھکنڈوں کے علاوہ سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے بی جے پی جمہوریت اور دستور کا خون کررہی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی جے پی ترقی اور فلاح و بہبود پر کبھی بات نہیں کرتی صرف بھگوان کا نام لیتی مذہبی جذبات بھڑکاتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کررہی ہے۔ انہوں نے مذہب اور بھگوان کا نام لئے بغیر انتخابات میں مقابلہ کرنے کا بی جے پی کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قائدین منھ میں رام اور بغل میں چھری رکھ کر گھومتے ہیں اور صبح اٹھتے ہی گوڈسے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جمہوریت اور دستور پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے ٹی ایم سی، شیوسینا، عام آدمی پارٹی اور این سی پی جیسی علاقائی جماعتوں کو توڑنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ملک بھر میں جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ملک کے عوام بی جے پی کے ان غیرجمہوری اور تاناشاہی اقدامات کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں اور وقت آنے پر سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی سرزمین پر بی جے پی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور انہیں یقین ہیکہ مرکز میں آئندہ حکومت کانگریس کی ہی بنے گی جو مودی کے تمام سازشوں کو ناکام بنادے گی۔2