منی سوٹا میں وفاقی جج کے فیصلہ سے ناخوش عوام سڑکوں پر نکل آئے

   

منی سوٹا، یکم فروری (یو این آئی) امریکہ میں وفاقی جج کیتھرین مینینڈیز کے فیصلے پر ناراض ہو کر ریاست منیسوٹا کے عوام کا جم غفیر ایک بار پھر سڑکوں پر اُمڈ آیا ہے ۔ ایک امریکی جج نے منیسوٹا میں تارکین وطن کے خلاف جاری آپریشن میٹرو سرج کو فوری طور پر روکنے سے انکار کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا سینٹ پال اور منیاپولس میں تارکین وطن کی گرفتاریوں، 2 افراد کے قتل کے خلاف وفاقی انتظامیہ پر مقدمہ چل رہا ہے ، اس لیے آپریشن میٹروسرج کو فوری بند نہیں کیا جا سکتا۔ رواں ماہ اسٹیٹ اٹارنی جنرل کیتھ ایلسن اور منیاپولس و سینٹ پال کے میئرز نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ آپریشن کو روکا جائے ، تاہم منیسوٹا کی امریکی ڈسٹرکٹ جج کیٹ مینینڈیز نے ہفتے کو یہ درخواست مسترد کر دی۔ جج نے تسلیم کیا کہ ریاستی حکام نے مضبوط دلائل پیش کیے ہیں کہ امیگریشن ایجنٹس کی حکمت عملی، بشمول فائرنگ اور نسلی بنیاد پر ٹارگٹ کرنے کے شواہد، منی سوٹا، ٹوئن سٹیز اور یہاں کے لوگوں پر گہرے اور دل نوچنے والے اثرات مرتب کر رہی ہے ، لیکن مینینڈیز نے اپنے فیصلے میں لکھا ”آخرکار عدالت کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ نقصانات کا توازن کسی عارضی حکم کے حق میں واضح طور پر نہیں ہے ۔” یہ مقدمہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اُس آپریشن کو روکنے یا محدود کرنے کی کوشش کے لیے دائر کیا گیا ہے ، جس نے ہزاروں امیگریشن ایجنٹس کو منیاپولس-سینٹ پال کے علاقے میں بھیجا تھا، جس کے نتیجے میں بڑے مظاہرے ہوئے اور وفاقی ایجنٹس نے دو امریکی شہریوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد ریاست کے مختلف شہروں میں عوام نے احتجاجی ریلی نکالی، ٹرمپ انتظامیہ اور آئس آؤٹ کے نعرے لگائے ، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور وفاقی اہلکاروں کے چھاپوں کے خلاف امریکا بھر میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔