نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے قومی دارالحکومت کی شراب پالیسی2021-22 جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا تھا، میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سیسوڈیا اور دیگر کی پیر کو ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ۔معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے جسٹس دنیش کمار شرما کی سنگل بنچ نے عام آدمی پارٹی لیڈر سیسوڈیا کے علاوہ دیگر شریک ملزمان وجے نائر، ابھیشیک بوئن پلی اور بی بابو کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے درج ایف آئی آر کیس میں ضمانت دینے سے انکار کر دیا ۔جسٹس شرما نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ معاملہ عوام کے پیسے کے بھاری نقصان اور گہری سازش کے الزام پر مبنی ہے ۔ اس معاملے میں درخواست گزار سیسوڈیا پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس لیے اس معاملے کو ایک مختلف انداز سے دیکھنا ہوگا۔سنگل بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں سابق نائب وزیر اعلیٰ سیسوڈیا پر باہری لوگوں کے مشورے پر شراب پالیسی کو متاثر کرنے کا الزام ہے ۔اس سے پہلے ہائی کورٹ کی اسی بنچ نے 30 مئی کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی طرف سے درج ایف آئی آر میں سابق نائب وزیر اعلیٰ سیسوڈیا کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
تب اس سنگل بنچ نے مسٹر سیسوڈیا کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردی تھی کہ عرضی گزار ایک بااثر شخص ہے اور ضمانت ملنے کے بعد وہ گواہوں کو متاثر کرسکتا ہے ۔ اس وجہ سے اسے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔راوز ایونیو میں واقع ایم کے ناگپال کی خصوصی عدالت نے 31 مارچ کو سیسوڈیا کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد سیسوڈیا نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔خصوصی عدالت نے 28 اپریل کو ای ڈی کے ذریعہ منی لانڈرنگ سے متعلق ایف آئی آر میں سیسوڈیا کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔سیسوڈیا کو سی بی آئی نے طویل پوچھ گچھ کے بعد 26 فروری 2023 کو گرفتار کیا تھا۔ وہ فی الحال ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعہ درج کیس میں عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔سی بی آئی کیس میں ان کی عدالتی حراست کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سیسوڈیا سے پوچھ گچھ کی تھی اور 9 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ بعد میں خصوصی عدالت نے ای ڈی کی درخواست پر سیسوڈیا کو اس کی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ سیسوڈیا کی ای ڈی کی حراست ختم ہونے کے بعد انہیں اس معاملے میں بھی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔سی بی آئی نے 17 اگست 2022 کو سیسوڈیا اور 14 دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی اور اس معاملے میں پہلی بار 17 اکتوبر 2022 کو سیسوڈیا سے پوچھ گچھ کی تھی۔