منی پور تشدد کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن کی تشکیل ‘متاثرین کیلئے معاوضہ

,

   

املاک کو نقصان پر راحت و بازآبادکاری پیاکیج کا آج اعلان۔ امیت شاہ کی پریس کانفرنس

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ منی پور کے دورے پر ہیں۔ اس دوران، جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، امیت شاہ نے کہا، ‘ کہ ہم منی پور میں امن بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تشدد کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے گا۔ کمیشن کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کریں گے۔ ایک امن کمیٹی بنائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ امیت شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ منی پور حکومت ڈی بی ٹی کے ذریعے مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کرے گی۔ مرکزی حکومت ڈی بی ٹی کے ذریعے مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ بھی دے گی۔ منی پور میں تشدد کے متاثرین کے لیے امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ منی پور میں پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لیے کئی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ سازش کی طرف اشارہ کرنے والے تشدد کے 6 واقعات کی اعلیٰ سطحی سی بی آئی انکوائری کرائی جائے گی۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تفتیش منصفانہ ہو۔ امیت شاہ نے کہا کہ ان لوگوں کے لیے جو زخمی ہوئے ہیں اور جن کی املاک کو نقصان پہنچا ہے، حکومت کل وزارت داخلہ سے راحت اور بازآبادکاری پیکیج کا اعلان کرے گی۔ 30 ہزار میٹرک ٹن چاول پہنچایا جائے گا، منی پور میں ایک ہفتے کے اندر ایک عارضی پلیٹ فارم تیار ہو جائے گا۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میڈیکل ٹیم مزید چورا چند پور اور تشدد سے متاثرہ مقامات پر کام کرے گی۔ مرکزی اور ریاستی حکومت ٹھوس منصوبہ بندی کرے گی تاکہ منی پور میں بچوں کی تعلیم تشدد کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔ ہائی کورٹ میں ورچوئل سماعت کا انتظام کیا جائے گا، لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ امیت شاہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری سطح کے افسران ریاست میں موجود ہوں گے اور ڈائریکٹر سطح کے پانچ افسران موجود ہوں گے۔ حکومت ہند کے افسران موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا کہ ہند۔میانمار سرحد پر 80 کلومیٹر سڑک پر باڑ لگائی جائے گی اور پوری سرحد کا سروے کیا جا رہا ہے۔منی پور میں تشدد کے دوران 75سے زیادہ افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں جبکہ املا ک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔3مئی کو مقامی قبائیلیوں کی جانب سے مارچ نکالنے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کیلئے نیم فوجی دستوں کو بھی روانہ کیا گیاتھا تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی صورتحال کشیدہ بتائی گئی ہے ۔اسی دوران صدر کانگریس پارٹی ملکاارجن کھرگے کی زیرقیادت کانگریس وفد نے صدر جمہوریہ ہند درپدی مرمو سے ملاقات کر کے منی پور تشدد کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی ریاست کا تین روزہ دورہ کررہے ہیں ۔