منی پور میں تازہ تشدد،9ہلاک

   

فسادیوں اور اسلحہ کی منتقلی کیلئے ایمبولنس کا استعمال ، کانگریس ٹیم کا سنسنی خیز انکشاف

امپھال / نئی دہلی: شورش زدہ منی پور میںآج تازہ تشدد پھوٹ پڑا جس میں کم از کم 9افراد ہلاک ہوگئے اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ۔بتایا گیا کہ ایک ریاستی وزیرکی امپھال ویسٹ میں واقع سرکاری قیامگاہ کو نذرآتش کردیا گیا ۔ وہاں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملیںلیکن دارالحکومت کے دیگر علاقوں میں شرپسندوں نے کئی جگہ املاک کو جلایا اور لوگوں پر حملے کئے ۔بھاری مالی نقصان کے درمیان کم از کم 9افراد ہلاک ہوجانے کی اطلاع ہے ۔ دریں اثناء کانگریس پارٹی کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں وزیر داخلہ کے ‘کارروائی پر سوال اٹھایا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ لوٹے گئے اسلحے اور گولہ بارود کی ناقص برآمدگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منی پور میں وزیر داخلہ کی وارننگ کے باوجود لوٹے گئے ہتھیاروں کی واپسی کی رفتار بہت سست ہے۔منی پور میں 3 مئی سے شروع ہونے والا ‘تشدد’ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پھوٹنے والے تشدد میں نو افراد ہلاک ہوئے۔خامن لوک کے علاقے میں رات کے وقت شدید فائرنگ کی گئی۔ جب سے ریاست میں تشدد شروع ہوا ہے، دونوں بڑی برادریاں ‘کوکی اور میٹی’ ایک دوسرے پر تشدد کا الزام لگا رہی ہیں۔13 جون تک تھانوں اور دیگر مقامات سے لوٹے گئے تقریباً چھ ہزار ہتھیاروں میں سے صرف 1040 ہتھیار جمع ہوئے ہیں۔ منی پور تشدد میں اب ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایسے الزامات ہیں کہ تشدد میں ملوث ایک گروپ ایمبولینس میں فسادیوں اور ہتھیاروں کو لے کر جا رہا ہے۔واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تشدد کو ختم کرنے کے لیے مئی کے ا?خری ہفتے میں منی پور کا دورہ کیا۔ وہ یکم جون کو دہلی واپس ا?ئے۔ انہوں نے کوکی اور میتی گروپوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی بات چیت کی، اس کے علاوہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ریاست کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ لوگوں کو لوٹا ہوا اسلحہ جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا۔تاہم بعد میں اس کی مدت بڑھا دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا۔ منی پور میں کانگریس پارٹی کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں وزیر داخلہ کی ’کارروائی‘پر سوال اٹھایا تھا۔