منی پور میں تشدد جاری ، انٹرنیٹ پر پابندی بڑھا دی گئی

   

امپھال: منی پور میں ریزرویشن کو لے کر کوکی اور میتی برادریوں کے درمیان 3 مئی سے تشدد جاری ہے۔ تشدد کے 48 ویں دن، اتوار کی رات دیر گئے مغربی امپھال میں ایک ہجوم نے گولی چلائی، جس میں ایک فوجی جوان زخمی ہوا وہ اسپتال میں داخل ہے، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ فوج نے پیر کو کہا کہ 18-19 جون کی درمیانی شب کانتو سبل سے چنگمنگ گاؤں کی طرف ایک ہجوم نے گولی چلائی جس میں ایک جوان زخمی ہوا۔علاقے میں گاؤں والوں کی موجودگی کو دیکھ کر جوانوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ فوج کا فلیگ مارچ جاری ہے۔ اتوار کو بھی وادی انفال میں فوج نے فلیگ مارچ کیا تھا۔ساتھ ہی اس تشدد کی وجہ سے ریاست میں کاروبار اور روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔ دنیا کی واحد ماں بازار میں خاموشی ہے۔ یہاں صرف خواتین ہی دکانیں لگاتی ہیں۔بازار میں خاموشی ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ اس تشدد نے جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس میں سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔وادی امپھال اور پہاڑی علاقوں میں فوجی گشت کر رہے ہیں۔ امپھال ویسٹ ضلع کے عہدیداروں نے بتایا کہ 18 جون کو کنٹرول میں آنے کے بعد صبح 5 بجے سے شام 5 بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی تاکہ عام لوگوں کو ضروری اشیاء بشمول ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء تک رسائی حاصل ہو سکے۔ بیس جون تک انٹرنیٹ پر پابندی۔ گزشتہ ہفتے جمعہ کو منی پور کے تھونگجو میں بی جے پی کے دفتر میں ہجوم نے توڑ پھوڑ کی۔ چہارشنبہ کو امپھال ویسٹ میں وزیر نیمچا کپجن کے گھر کو جلانے کی کوشش کی گئی۔ اسی روز ہونے والے تشدد میں 9 افراد ہلاک جب کہ 10 سے زائد زخمی ہوئے۔ منی پور حکومت نے انٹرنیٹ پر پابندی 20 جون تک بڑھا دی ہے۔ افواہوں اور بدامنی کو پھیلنے سے روکنے کیلئے پورے امپھال مغربی ضلع میں واکی ٹاکی کی فروخت اور استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔جمعہ کو لوگوں نے ٹائروں اور تعمیراتی سامان کو آگ لگا دی۔