امپھال: منی پور میں میتئی اور کوکی قبائل کے درمیان نسلی تشدد کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ شرپسندوں نے جمعہ کی رات تھونگجو میں بی جے پی کے دفتر پر حملہ کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں دفتر میں پتھراؤ اور توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق دفتر کے پنکھے توڑ دیئے گئے ہیں۔ شرپسندوں نے بی جے پی کے جھنڈوں کو اکھاڑا اور پھینک دیا۔ قبل ازیں، 15 جون کو ایک ہجوم نے امپھال میں مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ آر کے رنجن سنگھ کی رہائش گاہ پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ شرپسندوں نے اسی رات نیو چیکون میں دو گھروں کو بھی نذر آتش کر دیا جس کے بعد سیکوریٹی فورسز کو آنسو گیس کے شل برسائے۔ واضح رہے کہ منی پور میں 3 مئی کو کوکی قبائلی برادری کی ریلی کے بعد ریاست میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ یہ ریلی ریاست کی اکثریتی میتئی برادری کو قبائلی درجہ دینے کے خلاف احتجاج میں بلائی گئی تھی۔ ایک اعلیٰ سکیوریٹی اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 1200 افراد پر مشتمل ہجوم نے حملہ کر دیا۔ ہجوم اتنا مشتعل تھا کہ ہم انہیں روک نہیں سکے۔ انہوں نے ہر سمت سے پٹرول بموں سے حملے کردیئے،صورت حال ہمارے قابو سے باہر تھی۔ وزیر نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر حالات پر قابوپانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس ماہ کے اوائل میں منی پور کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔ لیکن اس دورے کے بعد سے صورت حال مزید بگڑ گئی۔ ایک غیرمصدقہ رپورٹ کے مطابق تین مئی سے شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے کم از کم 110 افراد ہلاک، سینکڑوں دیگر زخمی اورتقریباً 50,000 بے گھر ہو چکے ہیں۔ متعدد عبادت گاہوں کو بھی آگ لگادی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ ریاست میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندی میں 20جون تک توسیع کردی گئی ہے۔